ملازمین کو ہراساں کرنے کا الزام، برطانوی وزیر انصاف کی قسمت داؤ پر لگ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کو جمعرات کو ایک رپورٹ موصول ہوئی جس میں ان کے نائب وزیر انصاف ڈومینک راب پر اپنی ملازمیہ کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس الزام کے ممکنہ طور پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم نے ڈومینک راب پر مکمل اعتماد کے اظہار کا اعادہ کیا ہے۔

سونک کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو رپورٹ موصول ہوئی ہے جسے ایک آزاد تفتیش کار نے تیار کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم اب بھی اپنے نائب پر مکمل اعتماد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ وہ رپورٹ کے نتائج کا بغور مطالعہ کر رہے ہیں۔

اگر یہ رپورٹ راب کے حکومت چھوڑنے کا باعث بنتی ہے تو یہ وزیر اعظم کے لیے ایک دھچکا ہو گا۔ وزیر اعظم کو اپنے قریبی ساتھی اور حامی کو کھونا پڑے گا۔

راب اس وقت اپنے طرز عمل کے متعلق آٹھ شکایات کے بعد ایک تحقیق کا ہدف بنے ہوئے ہیں۔ یہ تحقیقات اس وقت سے متعلق ہیں جب وہ سیکرٹری خارجہ اور بریکسٹ سیکرٹری تھے۔ وزارت انصاف میں ان کے پہلے دور کا وقت بھی تحقیقات کی زد میں آرہا ہے۔

گارڈین اخبار نے نومبر میں رپورٹ کیا تھا کہ راب کی بطور وزیر انصاف تقرری نے وزارت کے بہت سے ملازمین کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ ان میں سے کئی مستعفی ہونے پر غور کر رہے تھے۔ برطانوی اخبار نے نشاندہی کی کہ وزارت کے ملازمین نے کام کے اس فریم ورک میں "خوف کی ثقافت" کی بات کی تھی جس کی سربراہی ایک "بدتمیز" اور "دشمن" ظالم کر رہا ہے۔

اخبار "دی سن" نے واضح کیا ہے کہ راب نے اجلاس کے دوران غصے میں ٹماٹر پھینکے تھے۔ اس الزام کی اس وقت ان کے ترجمان نے تردید کی تھی۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے یہ واضح نہیں کیا کہ رپورٹ کے نتائج کب شائع کیے جائیں گے تاہم یہ واضح کیا ہے کہ اگر کارروائی کی ضرورت پڑی تو اسے "جلد سے جلد" کیا جائے گا۔ فروری میں رااب نے سکائی نیوز پر زور دیا تھا کہ انہوں نے اپنے پورے دور میں ہمیشہ پیشہ ورانہ انداز میں کام کیا ہے۔ مگر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اخلاقی طور پر ہراساں کرنے کے الزام کی تصدیق ہو گئی تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ فنانشل ٹائمز نے ایک سینئر سرکاری اہلکار کے حوالے سے کہا کہ رپورٹ کے نتائج "تباہ کن" ہیں۔

یاد رہے نومبر میں گیون ولیمسن جو سونک کی حکومت میں بغیر پورٹ فولیو کے وزیر تھے، نے ہراساں کیے جانے کے الزامات کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ جنوری میں سونک نے کنزرویٹو پارٹی کے چیئرمین ناظم الزھاوی کو ٹیکس تنازعات پر برطرف کر دیا تھا۔

سونک کی حکومت سے متعلق اب یہ تازہ الزامات سامنے آگئے ہیں جس نے ان کے وزیر انصاف کی عزت اور قسمت بھی داؤ پر لگا دی ہے۔ "ساونتا" کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً 72 فیصد برطانوی ووٹروں کا خیال ہے کہ اگر رااب نے اپنے ملازمین کے ساتھ جارحانہ سلوک کیا تھا تو انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے۔ 44 فیصد کا خیال ہے کہ رشی سونک نے ان الزامات کا علم رکھنے کے باوجود راب کو اپنا وزیر انصاف مقرر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں