پیرس: 1980 میں عبادت گاہ پر بم حملہ کے الزام میں ایک شخص کو عمر قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پیرس کی ایک عدالت نے جمعہ کے روز لبنانی نژاد کینیڈین شہری حسن دیاب کو 1980 میں ایک عبادت گاہ پر ہونے والے بم دھماکے کے الزام میں اس کی غیر حاضری میں عمر قید کی سزا سنا دی۔ اس حملہ میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ذیاب کے خلاف زیادہ سے زیادہ ممکنہ سزا کی درخواست کو سنا۔ حسن دیاب اس وقت 69 سال کے ہیں اور کینیڈا میں یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ استغاثہ نے اپنے خلاصے میں کہا کہ اس میں کوئی "ممکنہ شک نہیں" کہ حملے کے پیچھے واحد مشتبہ شخص ذیاب کا ہاتھ تھا۔

3 اکتوبر 1980 کی شام کو پیرس کے وضع دار 16 ویں ضلع میں ’’ ریو کوپرنیک‘‘میں ایک عبادت گاہ کے قریب موٹر سائیکل پر رکھا گیا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جس سے موٹر سائیکل پر گزرنے والا ایک طالب علم، ایک ڈرائیور، ایک اسرائیلی صحافی اور ایک نگراں ہلاک ہو گیا۔ یہ دھماکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانسیسی سرزمین پر یہودی اہداف کے خلاف پہلا مہلک حملہ تھا۔ کسی تنظیم نے ابھی تک اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم پولیس کو پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے الگ ہونے والے گروپ پر شبہ ہے۔

فرانسیسی انٹیلیجنس نے 1999 میں سماجیات کے پروفیسر دیاب پر 10 کلو گرام (22 پاؤنڈ) کا بم بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دیاب کی مشابہت کی طرف اشارہ کیا جو اس وقت تیار کیے گئے پولیس خاکوں اور ہاتھ سے لکھے جانے والے تجزیوں کے ساتھ پائی جارہی تھی۔ پروفیسر دیاب کے مطابق یہ تصدیق مشتبہ ہے۔

انہوں نے دیاب کے خلاف ثبوت کے طور ایک اور اہم چیز پیش کی تھی اور وہ دیاب کے نام کا پاسپورٹ تھا۔ یہ پاسپورٹ 1981 میں روم میں ضبط کیا گیا تھا۔ سپین میں داخلے اور خارجہ

بھی پیش کی - اس کے نام کا ایک پاسپورٹ، 1981 میں روم میں ضبط کیا گیا، اس پاسپورٹ پر سپین سے داخلے اور خارجے سٹامپ لگی ہوئی تھیں۔ خیال تھا کہ حملے کا منصوبہ سپین میں بنایا گیا تھا۔ 2014 میں کینیڈا نے فرانسیسی حکام کی درخواست پر دیاب کو حوالے کیا۔

تاہم تفتیشی جج تحقیقات کے دوران اپنے جرم کو حتمی طور پر ثابت کرنے میں ناکام رہے اور دیاب کو رہا کر دیا گیا۔ 2018 میں ان کو رہا کردیا گیا۔

تین سال بعد، ایک فرانسیسی عدالت نے پہلے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ دیاب کیخلاف دہشت گردی کے ادارے کے سلسلے میں قتل، اقدام قتل اور املاک کو تباہ کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔

فرانسیسی حکام نے دیاب کے لیے نئے بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ جاری کرنے سے روک دیااور دیاب پر چھوڑ دیا کہ وہ اس کے مقدمے میں شرکت کرے یا نہ کرے۔

اب سزا سنائے جانے کے بعد حسن دیاب کو پھر گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا ہے۔ اس سے فرانس اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تناؤ پیدا ہونے کا بھی خطرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں