سعودی عرب اور یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کاروں کا سوڈان تنازع پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اتوار کے روزٹیلی فون پر گفتگوکی ہے اورسوڈان میں جاری تنازع اور تازہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں اعلیٰ سفارت کاروں نے جمہوریہ سوڈان میں متحارب فریقوں کے درمیان فوجی کشیدگی کو روکنے، تشدد کو ختم کرنے اورسوڈانی شہریوں اورمکینوں کو اس طرح سے ضروری تحفظ مہیا کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے جو ملک کی سلامتی ، استحکام اور فلاح و بہبود کی ضمانت دیتی ہوں۔

ایس پی اے نے مزیدکہا کہ اعلیٰ عہدے داروں نے خطے اور بین الاقوامی سطح پرتازہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اورعالمی امن اورسلامتی کے فروغ کی کوششوں پر بات چیت کی ہے۔

متعددممالک نے اپنے شہریوں یاسفارت خانوں کے عملہ کے محفوظ انخلا کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔سعودی عرب نے پہلے کامیاب انخلا آپریشن کی قیادت کی ہے جس میں ہفتے کے روز پورٹ سوڈان سے بحری جہازکے ذریعے غیرملکی سفارت کاروں اور عہدے داروں سمیت 150 سے زیادہ افراد کو نکالا گیا ہے۔

سعودی عرب نے اپنے 91 شہریوں کے علاوہ کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، تُونس، پاکستان، بھارت، بلغاریہ، بنگلہ دیش، فلپائن، کینیڈا اور برکینافاسو سمیت 12 دیگر ممالک کےقریباً 66 شہریوں کی بہ حفاظت جدہ میں آمد کی تصدیق کی ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز سوڈان میں مسلح تنازع کے بعد سعودی شہریوں اور "برادر اوردوست" ممالک کے شہریوں کا انخلا کا اعلان کیا تھا اور بتایا تھا کہ انخلا کا فیصلہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیزاور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت کے بعد کیا گیا ہے۔

سوڈان کے آرمی چیف عبدالفتاح البرہان کی وفادار فوج اوران کے نائب محمدحمدان دقلو کے زیرقیادت پیراملٹری سریع الحرکت فورسزکے درمیان 15 اپریل کوشروع ہونے والی لڑائی میں 400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسزنے عیدالفطر پرجمعہ سے تین روزہ جنگ بندی پراتفاق کیا تھا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان خرطوم اور دوسرے علاقوں میں جھڑپیں جاری رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں