میں خرطوم میں سریع الحرکت فورسز کے ساتھ ہوں:حمیدتی کی العربیہ سےگفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں سریع الحرکت فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو "حمیدتی" نے ہفتے کے روزکہا کہ وہ خرطوم کے اندر اوراپنی فورسز کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے "العربیہ" کو خصوصی بیان دیتے ہوئے کہا کہ البرہان نے اسلامی تحریک کی واپسی کے لیے پہلے دن سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ وہ "کارتی" یا "اسامہ عبداللہ" کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ " ان کا اشارہ شدت پسندوں کی طرف تھا۔

حمیدتی نے موجودہ واقعات کی وجہ سے سوڈانی عوام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ البرہان نے میرے مشورے پر کان نہیں دھرے۔ میں جمہوری تبدیلی اور انتقالی کی منتقلی کے ساتھ ہوں۔ میں نے اسے پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ وہ ملکی معاملات کو کس طرح سے چلاتے ہیں۔

سوڈان میں سریع الحرکت فورسز کے کمانڈر نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات فریم ورک معاہدے اور سوڈان میں جمہوری منتقلی کی حمایت کرتے ہیں۔

حمدتی نے العربیہ کو بتایا کہ "ہم ہی ہیں جنہوں نے البرہان کی بغاوت کو ناکام بنایا اور ویگنر کی افواج کا سوڈان میں موجودہ تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ البرہان ایک خندق کے اندر بیٹھا ہے اور اسے نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے۔ فوج کے دستوں نے جنگ بندی کے باوجود نیل کے مشرق میں ہماری افواج پر حملہ کیا۔

جنگ بندی کے لیے پرعزم

حمیدتی نے عید الفطر کے موقع پر سوڈان میں اعلان کردہ جنگ بندی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا سے فون پر بات کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر نے ہم جنگ بندی کے لیے متفق ہیں۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ انہوں نے کولونا کے ساتھ فون کال کے دوران سوڈان کی موجودہ صورتحال، حالات کے بگڑنے کی وجوہات اور شہریوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری کھولنے کے لیے اعلان کردہ جنگ بندی پربات کی۔

فون کال کے دوران انہوں نے ’آر ایس ایف‘ کے جنگ بندی کی مدت کے دوران مکمل جنگ بندی کے عزم کی تجدید کی، جس پر فوج نے کل اتفاق کیا تھا۔

سوڈان میں فوج کے دو دھروں کے درمیان مسلح تنازع آج نویں دن میں داخل ہوگیا ہے۔ فوجی دستوں اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان عید کے ایام میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں۔

"العربیہ" اور "الحدث" کے نامہ نگاروں نے عیدالفطر کے دوسرے روز ام درمان میں توپ خانے کی آواز سننے کی اطلاع دی۔ ام درمان کے علاقے منصورہ میں گولہ گرنے سے 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ہمارے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خرطوم بحری اور ام درمان میں مسلسل جھڑپیں جاری ہیں۔

ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر ام درمان شہر میں شدید کومبنگ آپریشن کر رہے ہیں۔ گلیوں میں لاشیں پڑی ہیں اور خرطوم شمالی میں صنعتی زون میں لوٹ مار کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں