جینز سے ثابت ہوا صدام حسین کی اصلیت ہندوستانی تھی: عراق میں حیران کن دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صدام حسین کے بارے میں ایک عجیب و غریب بیان نے عراق بھر میں تعجب کے ساتھ ساتھ طنزیہ رد عمل کو پیدا کردیا ہے۔ طنزیہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب قیس الخزعلی نے دعویٰ کیا کہ صدام حسین کی اصلیت ہندوستان سے تھی۔ لیگ آف رائیٹوس نے صدام حسین کی الگ اصلیت بتاتے ہوئے اپنے دعویٰ کی تائید میں کسی سائنسی ذریعہ کا ذکر نہیں کیا۔

انہوں نے ہفتہ کو عید الفطر کی نماز کے خطبہ کے دوران کہا کہ سابق عراقی رہنما صدام حسین کی جینز کے تجزیہ یعنی ان کے ڈی این اے کے تجزیہ سے ثابت ہوا ہے کہ وہ ہندوستان سے ہیں۔ صدام الھدام نے اپنے بیانات شائع کیے جس میں کہا گیا تھا کہعراقی لوگ ہندوستانی نژاد ہیں۔ اب ڈی این اے کے تجزیے کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ صدام ہندوستان سے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ انتھک محنت کی جا رہی ہے اور لوگوں کے مذہب، عقائد، اخلاق، رسم و رواج اور روایات کو نشانہ بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ان بیانات کے بعد عراقیوں نے سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے اور اس پر مختلف قیاس آرائیاں کیں۔ بہت سے دیگر افراد نے ملک کے بہت سے سیاستدانوں کے جینز کا تجزیہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاکہ ان کی سیاسی وفاداریاں ظاہر کی جاسکیں۔

بعض افراد نے طنزیہ بیانات دیے اور کہا قیس الخزعلی نے ان جینز سے پریشان ہونے کے بجائے عراق سے متعلق امو پر غور کریں۔ وہ ان امور پر کیوں غور نہیں کرتے جو عراقیوں کی روزمرہ زندگی اور ان کے سماجی و اقتصادی مسائل کو متاثر کرتے ہیں ۔

صدام کی اصلیت کی تحقیقات

2017 میں سرکاری سرکاری میڈیا سے وابستہ الشبابہ میگزین نے صدام کی اصلیت کے بارے میں ایک تحقیقات شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ جینیاتی جانچ سے ثابت ہوا ہے کہ صدام حسین جنوبی ایشیاء خصوصاً پاکستان، ہندوستان، تاجکستان، بلوچستان، ایران اور افغانستان میں پھیلے ہوئے "L" خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ خاندان کچھ حد تک پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اس مطالعہ نے اس وقت یہ واضح نہیں کیا تھا کہ اس نتیجہ تک کیسے پہنچا گیا ہے۔ اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کسی سائنسی ذریعہ کا بھی حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔

یاد رہے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کو 20 سال گزر چکے ہیں۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 20 مارچ 2003 کو "آپریشن فریڈم" کے نام سے ایک آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس میں تقریباً 150 ہزار امریکی فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بہانے حملہ کیا گیا تاہم بعد میں ثابت ہوا تھا کہ عراق میں ایسے ہتھیار موجود نہیں تھے۔ اسی سال 9 اپریل کو عراقی حکومت کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ صدام حسین آٹھ ماہ تک روپوش رہے اور امریکی فوج نے انہیں ڈھونڈ نکالا تھا۔ صدام حسین پر مقدمہ چلایا گیا اور دسمبر 2006 میں انہیں پھانسی دیدی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں