خاتون رکن اسمبلی کو قبائلی مصالحتی اتھارٹی کی سربراہی ملنے پر اردن میں تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعرات کو اردن میں تین قبیلوں کے درمیان ایک مصالتی قبیلہ اتھارٹی کی سربراہی خاتون رکن پارلیمنٹ کو دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد اردن میں شہریوں نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر قبائلی مصالحتی ثالثی کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون کے حوالے سے تبصروں کی بھرمار کردی۔ اس تعیناتی پر اردن میں ایک تنازع کھڑا ہوگیا۔

مقامی ویب گاہوں کے مطابق بعض افراد نے رکن پارلیمان میادہ شریم کے اس رویے کی حمایت کی اور بعض نے اس کی مخالفت کردی۔ دوسری جانب میادہ شریم نے وضاحت کی کہ جب میں نے اتھارٹی کی سربراہی سے متعلق تصاویر شائع کی تو مجھے ایک بڑے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ بہت سے افراد نے مجھے ان رسوم و روایات کی خلاف ورزی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جن کے لیے مردوں کو یہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میرے اس رویہ کی وجہ یہ ہے کہ طبربور کے علاقے میں ایک سرکاری سکول میں ایک خاتون نے مجھ سے رجوع کیا اور مدد مانگی کہ اس کے بیٹے کو اس کے کلاس فیلوز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔ خاتون کے بیٹے کو جسم کے حساس حصوں پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔

میادہ شریم نے کہا میں نے تنازع کے حل کے لیے فریقین کے لیے تسلی بخش حل تک پہنچنے میں پیش قدمی کی۔ متاثرہ ماں اپنے بیٹے کے حق کا دعویٰ کر رہی تھی۔ جن کے خلاف شکایت تھی وہ تین نابالغ بچے تھے۔ ان طلبہ کو دو ماہ کے قید کی سزا دی گئی تھی۔ اس تنقید کے باوجود میادہ شریم نے کہا کہ وہ اگلے جون میں ایک اور ایسی مصالحتی اتھارٹی کی سربراہی کریں گی اور اچھے کام کرتی رہیں گی۔

دوسری طرف ٹویٹر پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک صارف کے مطابق "نمائندہ میادہ شریم نے قبائلی مصالحتی اتھارٹی کی قیادت کی اور اس جھگڑے کا خاتمہ صلح کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے کچھ لوگوں کے عدم اعتماد کو جنم دیا۔ جائزہ لیا جائے تو ان افراد کے تبصروں سے آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ عورت ان کے لیے صرف ایک شے ہے جو مرد کی خدمت کے لیے زندہ رہتی ہے۔

ایک اور شخص نے لکھا کہ مجھے پہلے حلقے میں ووٹ ڈالنے کا حق ہوتا تو میں نیک میادہ شریم کے لیے سوچے سمجھے بغیر اپنا ووٹ ڈالتا کیونکہ وہ ایک نیک، پاکباز اور با اخلاق خاتون ہیں۔ پہلے لوگوں میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ ان کی اعلی ساکھ ہے اور لوگوں کو ان پر اعتماد ہے۔

دوسری طرف ایک مشہور قبیلہ کے شیخ نے میادہ شریم نے تین قبیلوں کے درمیان ایک قبائلی مصالحتی اتھارٹی کی صدارت کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اردن میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ ایک قبائلی خلاف ورزی اور قبائلی رسم و رواج کی خلاف ورزی ہے جس کا اردنی معاشرہ اس سے پہلے مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ اس طرز عمل کو جاری رکھنا درست نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں