روس شام میں غیرمحفوظ اورغیرپیشہ ورانہ فضائی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے:امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکاکے ایک اعلیٰ فوجی جنرل نے کہا ہے کہ روس جنگ زدہ شام میں ’’غیرمحفوظ اورغیر پیشہ ورانہ فضائی سرگرمی‘‘انجام دے رہا ہے۔

میجرجنرل میتھیومیکفارلین نے سوموارکو ٹیلی فونک نیوزکانفرنس میں عراق اورشام میں داعش کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’’ہم روسیوں کی جانب سے غیرمحفوظ اورغیر پیشہ ورانہ فضائی سرگرمیاں دیکھ رہے ہیں‘‘۔

داعش کے خلاف فوجی اتحاد کے سربراہ میکفارلین نے کہاکہ امریکی فوج روس کی تخریبی سرگرمیوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے خطرات کوکم کرنے کے لیے ہاٹ لائن کا استعمال کرتی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ داعش مخالف اتحاد اس مشن پربدستورپرعزم اور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

امریکی جنرل نے داعش کے خلاف جنگ میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سخت گیرجنگجو گروپ کو فوجی طور پر شکست دی جا چکی ہے اوراس کا کوئی علاقہ نہیں ہے۔ان کا نظریہ’’غیرمحدود‘‘ہےاوردہشت گرد گروہ خطے اور دنیا بھرمیں اپنے حملوں کو دوبارہ تشکیل دینے اور دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

انھوں نے کہا:’’لیکن (ہماری کوششوں اور اتحادی شراکت داروں کی بدولت)ہم نے اپنے علاقے میں داعش کی سرگرمی اوراثرپذیری میں ڈرامائی کمی دیکھی ہے‘‘۔

ترکیہ کا کردار

واشنگٹن نے گذشتہ برسوں میں شدت پسندگروپ کامقابلہ کرنے کے لیے شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔اس گروپ نے داعش کے خلاف لڑائی میں ہزاروں جنگجوؤں کو کھودیاہے۔ مگرمعاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا ایک اہم اتحادی ترکیہ اس شراکت داری سے مایوس رہا ہے اور اس نے باربارامریکا کے حمایت یافتہ شامی کرد جنگجوؤں پر حملے کیے ہیں۔

ترک افواج نے شام اور عراق میں کردوں کے ٹھکانوں پر بھی بمباری کی ہے اوران حملوں کی وجہ گذشتہ سال نومبرمیں استنبول میں ہونے والے بم حملے کا ضروری جواب قراردیا ہے۔ترکیہ نےاس حملے کا الزام کرد ملیشیا پرعایدکیا تھاجبکہ کردوں نے سختی سے تردید کی تھی۔

اس ماہ کے اوائل میں مبیّنہ طورپرشام میں ایک سرکردہ کرد عہدہ دارکے قافلے پر ہونے والے حملے کے پیچھے مبینہ طور پر ترکیہ کا ہاتھ تھا۔ کوئی زخمی نہیں ہوا۔

العربیہ انگلش نے پینٹاگون کے ایک سینیرعہدہ دار سے حملےکے بارے میں پوچھا توانھوں نے کہا کہ تحقیقات ابھی جاری ہے۔تاہم عہدہ دار نے داعش کے خلاف جنگ میں کرد فورسز کے لیے امریکی عزم اور حمایت کا اعادہ کیا۔ترکیہ نے بار بار شام میں کرد فورسز کے خلاف نیا زمینی آپریشن شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

امریکا کے مشرقِ اوسط کے لیے نائب معاون وزیردفاع ڈانااسٹرول نے اسی فون کال میں کہا:’’ہم ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتے ہیں جس سے(شامی ڈیموکریٹک فورسز)یا داعش کے خلاف ہمارے مشن کو خطرہ لاحق ہو‘‘۔

انھوں نے مزیدکہا کہ اس سے نہ صرف ہمارے اہل کاروں اور شامی جمہوری فورسز کی سلامتی متاثر ہوگی بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام پربھی اثرات مرتب ہوں گےاوران تمام افراد پر بھی اثر پڑے گا جنھوں نے داعش کو بے دخل کرنے میں اس اتحاد کی کامیابیوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں