سونا، ہیرے جواہرات اور طیارے، لیبیا کو قذافی کے اربوں کی دولت کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے سابق مقتول صدر کرنل معمر قذافی کی ملکیت میں موجود اربوں کی دولت کا معاملہ اس وقت ملک کی موجودہ حکومت کی توجہ کا مرکز ہے۔ ان کی اندرون اور بیرون ملک موجود جائیداد اور اثاثوں، بیرون ملک بنکوں میں چھپائی دولت کا پتا چلانے کے لیے حکومت کوشاں ہے۔

عبدالحمید الدبیبہ کی حکومت کو اب بھی ریاستی اثاثوں میں سے دسیوں ارب ڈالر کی وصولی کے لیے واشنگٹن کی مدد کی اشد ضرورت ہے جو قذافی اور اس کے اندرونی حلقے نے مبینہ طور پر پوری دنیا میں چھپا رکھے تھے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق اس رقم کا تخمینہ تقریباً 120 بلین ڈالر ہے، جو لیبیا کی ریاست اور اس کے اثاثوں سے لوٹ کر بیرون ملک منتقل کیے گئے تھے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی لیبیا کو صرف 54 بلین ڈالر مالیت کے اثاثوں کا سراغ لگانے اور شناخت کرنے میں مدد کرنے میں کامیاب رہی، جس میں بینکوں میں موجود سونا، ہیرے، طیاروں اور بحری جہازوں کے ذخائر شامل ہیں۔

اس تناظر میں ان اثاثوں کی بازیابی کے انچارج لیبیا کے اہلکار محمد رمضان منسلی نے وضاحت کی کہ انہوں نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کی اپیل کی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے اشارہ کیا کہ کچھ حکومتوں کو اس بارے میں تحفظات ہیں کہ آیا لیبیا کی حکومت اس حجم کی رقم کا انتظام کرنے کے قابل ہے بھی یا نہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی برآمد شدہ فنڈز ان ممالک کو یقین دلانے کے لیے مخصوص منصوبوں جیسے کہ اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر کے لیے اقساط میں واپس کیے جانے سے پہلے بیرون ملک محفوظ جگہ پر رہیں گے۔ اس رقم کو اقساط کی شکل میں ادا کیا جا سکتا ہے۔

8 طیارے جن کی قیمت ادا کردی گئی

منسلی نے کہا کہ سابق مرد آہن کرنل قذافی کے دور میں امریکا کو آٹھ C130 طیاروں کی رقم ادا کردی گئی تھی مگر وہ لیبیا کے حوالے نہیں کیے گئے۔

قابل ذکر ہے کہ لیبیا میں دو مسابقتی حکومتوں کا وجود اور سیاسی عہدیداروں کی اب تک آئینی پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد میں ناکامی قذافی کی دولت کی بحالی کے لیے کی جانے والی قانونی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔

آفس آف ایسٹ ریکوری کے اندر صدارت پر تنازعہ نے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں اس سے قبل بھی اثاثوں کی بازیابی کی کچھ کوششوں کو متاثر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں