ایران:شمالی صوبہ میں سپریم لیڈرخامنہ ای کے سابق نمائندے کوگولی مارکرقتل کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران میں بحیرۂ کیسپیئن کے ساتھ واقع شمالی صوبہ مازندران میں بدھ کے روز ایک حملے میں ایک ممتازشیعہ عالم دین کو گولی مار کرقتل کردیا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ مازندران کے علاقے بابولسرمیں ایک حملہ آورنے عباس علی سلیمانی پرفائرنگ کی ہے اور پولیس نے اس حملہ آورکوگرفتارکرلیا ہے۔

قتل کی اس واردات سے متعلق صورت حال کئی گھنٹے کے بعد بھی واضح نہیں تھی کہ یہ واقعہ کیسے رونما ہوا ہے اوراس کی متنازع تفصیل سامنے آئی ہے۔

سرکاری ٹی وی نے پہلے بتایاکہ عباس علی سلیمانی شہر کے ایک بینک میں موجود تھے جب ایک شخص نے بینک کے ایک ملازم کے ساتھ ذاتی جھگڑے پرمحافظ کی بندوق چھین لی اورفائرنگ شروع کر دی۔سرکاری ٹی وی نے بعد میں بتایا کہ خود محافظ نے فائرنگ کی تھی۔

وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مولوی عباس کے قتل کی خصوصی تحقیقات کرے گی۔

78 سالہ مقتول عباس سلیمانی ایران کی شورائے خبرگان(مجلس خبرگان رہبری) کے بھی رکن رہے تھے۔یہ 88 رکنی پینل ایران کے سپریم لیڈر کاانتخاب اورتقررکرتا ہے۔وہ ایک دور میں ایران کے شورش زدہ صوبہ سیستان بلوچستان میں سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے ذاتی نمائندے بھی رہ چکے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں