جنسی ہراسانی اسکینڈل، عالمی ادارہ صحت کا ڈائریکٹر عہدے سے فارغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عالمی ادارہ صحت [ڈبلیو ایچ او] نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک جونیئر برطانوی ڈاکٹر کی شکایت پر تحقیقات کے بعد ہراسانی کے الزام میں ایک سینیر ڈائریکٹر کو ملازمت سے سبکدوش کر کے اس کے خلاف مزید تادیبی اقدامات اٹھائے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارسیا بال نے اس واقعے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ "ٹیمو واکانیوالو کو عالمی ادارہ صحت سے اس وقت برطرف کیا گیا جب اس کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام سامنے آیا جس پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی روبعمل لائی گئی تھی۔"

بال نے ایک بیان میں مزید کہا کہ "اس بات سے قطع نظر کہ جنسی ہراسانی کا شکار ملازم ہے، کنسلٹنٹ یا پارٹنر ڈبلیو ایچ او کے ساتھ کام کرنے والوں سے کسی بھی قسم کی جنسی زیادتی قابل قبول نہیں ہے، ۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "واکانیوالو عالمی ادارہ صحت کے سامنے اسےادارے کے سسٹم کے تحت برطرفی کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔ اگر اسے قبول نہیں کیا جاتا ہے تو وہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن میں ثالثی کمیٹی کے سامنے اپیل کر سکتا ہے۔"

قابل ذکر ہے کہ برطانوی ہیلتھ سروس کے لیے کام کرنے والی ڈاکٹر روزی جیمز نے گذشتہ سال اکتوبر میں ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ہراساں کیے جانے کی شکایت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں