روس اور یوکرین

جنگ سے نکلنے کا واحدراستہ مذاکرات ہیں:چینی صدرشی کی یوکرینی ہم منصب سےگفتگو

فروری 2022ء میں روس کے یوکرین پرحملے کے بعد چینی اوریوکرینی صدورکے درمیان پہلاٹیلی فونک رابطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چینی صدرشی جن پنگ نے بدھ کے روز یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی سے فون پربات چیت کی ہے۔ بیجنگ اورکیف نے کہا ہےکہ گذشتہ سال فروری میں روس کے یوکرین پرحملے کےآغازکے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پریہ پہلی گفتگوہے۔

ولودی زیلنسکی نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا کہ ’’صدر شی جن پنگ کے ساتھ میری طویل اور بامعنی بات چیت ہوئی ہے‘‘۔انھوں نے لکھا کہ’’مجھے یقین ہے،اس کال کے ساتھ ساتھ چین میں یوکرین کے سفیرکے تقررسے ہمارے دوطرفہ تعلقات کوتقویت ملے گی‘‘۔

زیلنسکی کے ترجمان سرگئی نیکیفوروف نے فیس بک پراطلاع دی ہے کہ دونوں لیڈروں کے درمیان قریباً ایک گھنٹاطویل ٹیلی فون پربات چیت ہوئی ہے۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدرشی جن پنگ نے زیلنسکی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔

سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ یوکرین بحران کے معاملے پرچین ہمیشہ امن کے ساتھ کھڑارہا ہے اوراس کا بنیادی مؤقف امن مذاکرات کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’چین نہ تو دوسری جانب سے آگ پرنظررکھے گا اور نہ ہی آگ میں ایندھن ڈالے گا‘‘۔شی جن پنگ نے کہا کہ جوہری مسئلے سے نمٹتے وقت تمام متعلقہ فریقوں کو پرامن اور پرسکون رہنا چاہیے،اپنے اور تمام انسانیت کے مستقبل اور تقدیر پر حقیقی طور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور مشترکہ طور پر بحران سے نمٹنا اور اس پر قابو پانا چاہیے‘‘۔

بیجنگ کا یہ مؤقف رہاہے کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار ہے لیکن صدرشی نے کبھی روسی حملے کی مذمت بھی نہیں کی۔دوسری جانب صدر زیلنسکی متعدد مرتبہ یہ کَہ چکے ہیں کہ وہ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیارہیں۔

فروری میں بیجنگ نے 12 نکاتی پیپر جاری کیا تھا۔اس میں یوکرین کے بحران کے "سیاسی تصفیے" پرزوردیا گیا تھا۔دستاویز میں چین کو ایک غیر جانبدار فریق کے طورپر پیش کیا گیاتھا اور دونوں فریقوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ امن مذاکرات میں شریک ہوں۔

اس کا پہلا نکتہ یہ تھا کہ ’’تمام ممالک کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھا جانا چاہیے‘‘۔

لیکن چین اس بات سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے کہ اس کا یوکرین جنگ کی تفصیل سے کیا تعلق ہے، جو اس وقت شروع ہوئی تھی جب ماسکو کی افواج نے ہمسایہ ملک پر حملہ کیا تھا۔اس دستاویزمیں بیجنگ نے روس اور یوکرین سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’’مذاکرات ہی واحد قابل عمل حل ہیں‘‘۔

نیزبین الاقوامی برادری کو امن کے لیے مذاکرات کو فروغ دینے کے درست نقطہ نظر پر کاربند رہنا چاہیے، تنازع کے فریقین کو جلدسےجلد سیاسی تصفیے کے دروازے کھولنے میں مدد کرنی چاہیے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے حالات اور پلیٹ فارم تیار کرنے چاہییں۔

اس دستاویز پر یوکرین کے اتحادیوں کی جانب سے شکوک و شبہات کا اظہارکیا گیا تھا اور نیٹو کے سربراہ جینز اسٹولٹن برگ نے کہا تھا کہ بیجنگ کی زیادہ ساکھ نہیں ہے کیونکہ وہ یوکرین پر روس کے غیر قانونی حملے کی مذمت نہیں کرسکا ہے۔

اس وقت بہت سے لوگوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ صدرشی نے روسی صدرولادی میرپوتین سے ملاقات کی تھی لیکن زیلنسکی کواس بات کے ثبوت کے طورپربھی نہیں بلایا تھا کہ چین وہ غیرجانبدارمبصرنہیں ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں