رومانیا میں گرفتارحزب اللہ کا مبیّنہ مالی معاون امریکا کے حوالے،بروکلین عدالت میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

رومانیا میں گرفتار لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ایک مبیّنہ اہم مالی اعانت کار کو اسی ہفتے کامیابی کے ساتھ امریکا حوالگی کے بعد نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف اب اس کے خلاف مقدمہ چلا رہا ہے۔

محمد بزی کو رومانیا کے حکام نے فروری میں گرفتار کیا تھا۔ انھیں واشنگٹن نے 2018 میں خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ ان پر ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو مالی، مادی اور تکنیکی مدد اور مالی خدمات مہیا کرنے کا الزام ہے۔

بروکلین میں امریکی اٹارنی کے دفتر کے ترجمان کے مطابق بزی کو منگل کے روز رومانیا سے نیویارک منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف بروکلین کی وفاقی عدالت میں فردِ جُرم عاید کی گئی تھی اور انھوں نے بدھ کے روز الزامات کی صحت سے انکار کی درخواست دائر کی تھی۔

ترجمان نے العربیہ کو بتایا کہ مجسٹریٹ جج پیگی کیو نے بزی کومقدمے کی سماعت تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کو امریکا نے سنہ1997 میں ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ تنظیم بیرون ملک امریکی فوجیوں، سرکاری ملازمین اور شہریوں کے خلاف دہشت گردی کے متعدد حملوں کی ذمہ دار ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق بزی نے مبیّنہ طور پر بیلجیئم، لبنان، عراق اور مغربی افریقا میں اپنے کاروبار سے حزب اللہ کو لاکھوں ڈالر فائدہ پہنچایا تھا۔ فروری میں محکمہ انصاف نے بزی کے ساتھ ایک اور لبنانی شہری طلال شاہین کے خلاف فردِ جُرم عاید کی تھی۔

بزی اور شاہین نے محکمہ خزانہ اور امریکی قانون نافذ کرنے والے حکام سے منی لانڈرنگ کو چھپانے کے لیے متعدد طریقے اختیار کیے تھے۔ ان میں چین میں کسی تیسرے فریق کی تلاش کے ساتھ ساتھ امریکا بھر میں لبنان میں قائم ریستوراں چین چلانے کے حقوق کے لیے ایک فرضی فرنچائزنگ معاہدہ بھی شامل تھا۔

بزی کی حوالگی سے ایک ہفتہ قبل امریکی استغاثہ نے حزب اللہ کے ایک اور مبیّنہ مالی معاون ناظم احمد پر امریکی پابندیوں سے بچنے اور کروڑوں ڈالر مالیت کے ہیرے اور آرٹ ورک فروخت کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

تاہم احمد کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے، لیکن اس کے ساتھ کام کرنے والے مبیّنہ افراد میں سے ایک سندرناگ ارجن کو پچھلے ہفتے برطانیہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ برطانوی میڈیا نے بتایا کہ امریکا ناگ ارجن کی حوالگی کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔

امریکا کی ایک تاریخ رہی ہے کہ وہ مطلوب افراد کی ان کے میزبان ممالک سے حوالگی کا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔ ان میں دہشت گرد گروہوں سے وابستہ افراد، خاص طور پر حزب اللہ کی مالی معاونت کے الزام میں گرفتار افراد شامل ہیں۔

لبنانی شہری غسان دیاب پر سنہ 2016 میں حزب اللہ کے ساتھی کے طور پر فردِ جُرم عاید کی گئی تھی۔ اسے 2019 میں قبرص میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایک سال بعد اسے امریکا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

حزب اللہ کے ایک اور مبیّنہ لبنانی مالی اعانت کار قاسم تاج الدین کو 2017ء میں مراکش میں گرفتار کیا گیا تھا اوربعد میں امریکا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ 2019 میں انھیں پابندیوں سے بچنے سے متعلق الزامات کا اعتراف کرنے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے انھیں رہا کر دیا اور واپس بیروت بھیج دیا تھا، حالانکہ حکومت نے ایک عدالتی حکم کی مخالفت کی تھی جس میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کے لیے ہنگامی درخواست دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں