سوڈان: عمر البشیر اور ان کے نائب ہسپتال داخل، سابق حکومت کے رہنما جیل سے آزاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران سابق صدر عمر البشیر کے دور حکومت کے عہدیدار خرطوم کی کوبر جیل سے نکل گئے ہیں۔ خود عمر البشیر اور ان کے نائب علاج کے لیے ہسپتال داخل ہیں۔

کوبر جیل میں قید سابق سوڈانی حکومت کے رہ نماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ جیل سے رہا ہو گئے ہیں جس کے بعد وہ کسی نامعلوم "محفوظ ٹھکانے" پر ہیں۔ اب وہ اپنی حفاظت خود کریں گے، جب کہ سوڈان میں "العربیہ" اور "الحدث" ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ معزول صدر عمر البشیر اور ان کے نائب باقری حسن صالح خرطوم کے فوجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ہمارے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نافع علی نافع، علی عثمان طحہ، عوض الجاز اور ابراہیم السنوسی بشیر حکومت کے ان رہ نماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے کوبر جیل چھوڑی ہے۔

احمد ہارون نے سابق حکومت کے زیر حراست رہ نماؤں کی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں کہا کہ وہ جیل میں ہی رہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جیل گذشتہ اتوار کو خالی ہوگئی تھی اور تمام قیدی چلے گئے تھے۔ ان کے ساتھ ایک چھوٹی محافظ فورس بھی تھی۔

انہوں نے آڈیو ریکارڈنگ میں وضاحت کی کہ جیل انتظامیہ نے رہ نماوں کو محدود پہرے میں نکالا، کیونکہ توقع کی جارہی تھی کہ موجودہ واقعات کی وجہ سے ان کی رہائی کا فیصلہ جاری کیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ہارون نے اس بات کی تصدیق کی کہ جب بھی وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل ہوں گے عدالتی حکام کے سامنے حاضر ہونے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کہ اب وہ جیل میں نہیں ہیں۔

حال ہی میں معزول صدر عمر البشیر کو اس وقت ہیلی کاپٹر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تھا جب فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی۔ بعد میں معلوم ہواکہ انہیں ام درمان کے علیا ہسپتال سے کسی دوسرے ٹھکانے پر منتقل کیا گیا ہے۔

عمر البشیراور ان کے 18 ساتھیوں کے خلاف 1989 کی بغاوت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے والی کمیٹی کے رکن المعز حضرت نے پریس بیانات میں کہا کہ "ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے عمر البشیر ،ان کے نائب بکری حسن صالح اور سابق وزیر دفاع عبدالرحیم محمد حسین کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

انہیں ایک مسلح گروپ کی طرف سے کوبر جیل پر دھاوے اور ایک ہزار قیدیوں کو چھڑائے جانے کے بعد کسی نامعلوم ٹھکانے پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان میں اخوان المسلمون کے قیدی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ البشیر کی منتقلی اور ان کے رابطے کے بارے میں معلومات علیا ہسپتال کے نجی ذرائع سے ملی، جہاں سابق صدر زیر علاج تھے۔"

سوڈانی مسلح افواج کے ترجمان نبیل عبداللہ نے البشیر کے ٹھکانے کے بارے میں کسی بھی تفصیلی معلومات کی دستیابی کی تردید کی اور جیلوں پر دھاوا بولنے اور مطلوب افراد کے فرار کا ذمہ دار سریع الحرکت فورسزکو ٹھہرایا۔

دوسر طرف ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر نے گذشتہ اخباری بیانات میں کہا تھا کہ سوڈانی فوج نے کوبر جیل کو کھولا، جس کے نتیجے میں قیدی فرار ہو گئے، لیکن یہ بات خارج از امکان نہیں کہ البشیر کو وہاں سے نکالا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں