سوڈان میں لوٹی گئی چیزوں کی ممانعت کا فتویٰ دیدیا گیا

خرطوم میں لوٹ مار اور چوری کا جواب دینے میں پولیس کی ناکامی پر لوگوں میں غم و غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں فوج اور آر ایس ایف کےدرمیان لڑائی کے بعد لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ بڑھتے جرائم پر سوڈانی شہری پولیس کے خلاف بھی غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے ہولناک جرائم کو روکنے کے لیے پولیس نے معمولی کوشش بھی نہیں کی ہے۔ فوج اور سکیورٹی ایجنسیاں بھی جرائم پیشہ افراد کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

چوری کے سامان کی ممانعت کا فتویٰ

دوسری طرف سوڈان کی دینی شخصیت اور مبلغ ڈاکٹر آدم ابراہیم الشین نے جرائم کو کم کرنے کے لیے فتویٰ کا سہارا لیا اور ان حالات میں فتویٰ جاری کیا ہے۔

انہوں نے اپنے فتوی میں کہا ہے کہ چوری کے مال میں سے کوئی بھی چیز نہ خریدو۔ خواہ وہ کھانا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم جانتے ہو کہ وہ چوری شدہ چیز ہے۔ اگر تمہیں چوری شدہ چیزوں میں سے کوئی چیز ملتی ہے تو تم اسے واپس کر دو۔ اسے قبول کرنے میں نرمی مت برتو۔ کسی کو چوری میں ملوث پاؤ تو اس کو نصیحت کرنا تم پر واجب ہے۔ لوگ ان بازاروں میں نہ جائیں جہاں چوری اور لوٹ مار سے حاصل چیزیں فروخت ہوتی ہیں ورنہ وہ بھی گناہ میں شریک سمجھے جائیں گے۔

سوشل میڈیا پر بھی مہم شروع

سوڈان میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر سرگرم کارکنوں نے "تمہارا مال تم پر حرام ہے" کے عنوان سے ہیش ٹیگ شروع کردیا ہے۔ چوری کی مخالفت میں سوشل میڈیا مہم تیز کردی گئی ہے۔ دوسری طرف چوروں نے مخصوص بازاروں میں کم قیمتوں میں لوٹ مار والی اشیا کی فروخت شروع کر رکھی ہے۔

قیدیوں کی رہائی، ایک نیا خطرہ

متعلقہ سیاق و سباق میں شہریوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سوڈان میں جرائم پیشہ افراد سمیت دارالحکومت اور مختلف ریاستوں میں ہزاروں قیدیوں کی رہائی کے بعد جرائم بڑھنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ شہریوں نے پیش گوئی کی ہے کہ لوٹ مار کرنے والے گروہ دہشت اور خوف و ہراس پھیلانا شروع کر دیں گے اور گھروں پر دھاوا بول دیں گے۔

دواسازی کے کارخانوں کی لوٹ مار سوڈان میں تباہ کن صورتحال کی نشاندہی کرنے لگی ہے۔ سوڈان میں چیمبر آف نیشنل ڈرگ مینوفیکچررز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دوا سازی کی فیکٹریوں میں مسلسل لوٹ مار سامنے آئی ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں دوائیوں کی فیکٹریوں پر حملے مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ"کو موصول ایک سرکاری بیان میں چیمبر نے خبردار کیا کہ یہ تباہ کن صورتحال ان فیکٹریوں کے بند ہونے اور زندگی بچانے والی ادویات کی مکمل کمی کا باعث بن جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں