ترکیہ جلد یا بدیر اپنی افواج کو واپس بلا لے گا: سابق ترک سفیر برائے شام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ اور شام کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی بحث ایک بار پھر منظر عام پر آگئی ہے، مئی کے اوائل میں روس، شام، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ کا ایک اور اجلاس منعقد ہونے کا امکان ہے، جس کا پہلے اعلان روسی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ و افریقہ اور روسی نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے کیا تھا۔

یہ اجلاس شام اور ترکی کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو تیز کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان 2012 سے، انقرہ کی جانب سے شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کرنے والے عوامی مظاہروں میں حزب اختلاف کی حمایت اور پھر بعد میں شامی علاقوں میں فوجی مداخلت کے پس منظر میں تعلقات کشیدہ ہیں۔

اس تناظر میں، ایک ممتاز ترک سفارت کار عمر آنہون ، جو ترکیہ کی جانب سے شام میں ذمیہ درایاں سرانجام دیتے رہے ہیں، نے اس بات کی تصدیق کی کہ "شام اور ترکی کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے یا بحال کرنے کا معاملہ ایک ایسا عمل ہے جو راتوں رات نہیں ہو گا"۔

دیرینہ وجوہات نزاع کی بنا پر انہوں نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جلد ہی کسی حتمی حل تک پہنچنے کے امکان کو مسترد کردیا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ترک حکام بالاخر اپنے فوجیوں کو شام کی سرزمین سے واپس بلا لیں گے۔

یہ عمل وقت طلب ہے

شام میں ترکی کے آخری سفیر عمر آنہون جو جون 2012 تک اپنے عہدے پر رہے، نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "دمشق اور انقرہ کے درمیان تعلقات کا معمول پر آنا کوئی فوری معاملہ نہیں ہوگا، خاص طور پر ان کثیر جہتی مسائل کے حوالے سے جنہیں حل ہونا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ "ترکی اپنی سلامتی کو یقینی بنانا چاہتا ہے اور شام میں پناہ گزینوں کی محفوظ واپسی کے لیے ضروری حالات پیدا کرنا چاہتا ہے، اور اس کے بدلے میں دمشق چاہتا ہے کہ ترکی کی فوج کا ملک سے انخلا اور اپوزیشن کی حمایت بند کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں سے کوئی بھی شرط غیر معقول نہیں ہے، لیکن اس پر صحیح سیاق و سباق میں بات کی جانی چاہیے ۔

انہوں نے مزید کہا، "مجھے یقین ہے دونوں ممالک کے درمیان معمول پر آنے کے عمل میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے، لیکن یہ جلدی نہیں ہوگا، اور کم از کم ترکیہ میں ہونے والے آئندہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سے پہلے یہ ممکن نہیں۔"

"شام سے ترک فوج کا انخلا ممکن ہے"

اس کے علاوہ، ترک سفارت کار نے زور دے کر کہا کہ "ترکی میں اعلیٰ حکام نے واضح طور پر اشارہ دیا ہے کہ انقرہ بالآخر شام سے دستبردار ہو جائے گا اور یہ کہ ترک فوج وہاں قیام کے لیے نہیں ہے بلکہ ملک کی جنوبی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے موجود ہے،"

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ "شام میں بہت سے مسلح عناصر موجود ہیں، اور ان کی قسمت کا انحصار ایک حتمی اور سیاسی حل پر ہے"،

اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہ عناصر ہتھیار ڈال کر اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں اور شامی فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یا پھر انہیں مخصوص شرائط کے مطابق شام میں رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جیسا کہ برسوں پہلے "درعا" شہر میں ہوا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ دمشق نے انقرہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے پیشگی شرائط رکھی ہیں، جن میں سب سے نمایاں ملک سے ترک افواج کا انخلا ہے۔

تاہم، ترکیہ ان شرائط کو مسترد کرتا ہے، خاص طور پر جو اس کی افواج کے انخلاء سے متعلق ہیں، جسے ترکیہ عدم مداخلت اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے جو اس کی جنوبی سرحدوں پر کرد فورسز کی صورت موجود اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں