خرطوم کی فضا میں جنگی طیاروں کی گھن گرج، سڑکوں پر نہ پھٹنے والے بارودی مواد کے ڈھیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جمعرات کو جنگ بندی کے تیسرے اور آخری دن نئی جنگ بندی ہوگئی تاہم اس کے باوجود سکیورٹی تناؤ موجود ہے۔

’’العربیہ‘‘ اور ’’الحدث‘‘ کے ذرائع کے مطابق فوج نے ام درمان اور خرطوم میں فضائی حملے کیے ہیں۔ ساتھ ہی دارالحکومت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے زمین پر کارروائیوں سے متعلق آوازیں سنی گئی ہیں۔

بغیر چلے بارودی مواد کے ڈھیر

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے خرطوم کے متعدد رہائشی محلوں میں نہ پھٹنے والے بارود اور ہتھیاروں کی موجودگی سے خبردار کردیا ہے۔ ادارہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں یہ بھی اشارہ کیا کہ 72 گھنٹے کی جنگ بندی کے باوجود شمالی خرطوم اور ام درمان میں لڑائی دیکھی گئی اور مغربی دارفور میں بھی تشدد میں اضافے دیکھا گیا ہے۔

24 اپریل کی آدھی رات کو نافذ ہونے والی 72 گھنٹے کی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان گزشتہ دو دنوں سے جھڑپیں جاری ہیں۔ بیان میں خرطوم کے کچھ رہائشی علاقوں میں غیر پھٹنے والے ہتھیاروں کی موجودگی کی غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ سے خبردار کیا گیا ہے۔

واضح رہے ایک طرف جھڑپیں جاری ہیں تو دوسری طرف عام شہری خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی قلت کا شکار ہیں، خاص طور پر خرطوم اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں مواصلات یا بجلی تک رسائی محدود ہوگئی۔

نقل و حمل کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر خرطوم سے مصری سرحد کی طرف سفر کے لیے اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔ شہری خرطوم اور النیل الازرق، شمالی کردفان، اور دار فور کے شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں سے فرار ہوتے رہتے ہیں۔

ہسپتال اب بھی ادویہ، طبی مواد اور سامان کی شدید قلت کا شکار ہیں اور انہیں کام کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ ان میں سے بیشتر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کھلی کچہریوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

سوڈانی وزارت صحت کے مطابق 15 اپریل کو ملک کی دو سب سے بڑی فوجی قوتوں کے درمیان بدھ تک ہونے والی جھڑپوں میں 512 افراد ہلاک اور 4000 زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں