اہانت مذہب کی پاداش میں زیر حراست چینی شہری کی ضمانت پر رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار چینی باشندے کو ضمانت ملنے پر جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ایبٹ آباد کی ایک مقامی عدالت نے جمعرات کو وکیلِ صفائی کے مطابق تائیں نامی چینی باشندے کی ضمانت منظور کی تھی جس کے بعد جمعے کو اسے جیل سے رہا کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس نے بھی چینی باشندے کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

وکیل صفائی عاطف خان جدون کے مطابق تائیں کو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد ضمانت پر رہائی ملی ہے۔

تائیں پاکستان میں زیرِ تعمیر داسو ڈیم پر کام کرنے والے چینی ملازمین کے گروپ میں شامل ہیں جن پر مقامی ملازمین نے توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا تھا۔

یاد رہے کہ چینی باشندے پر توہینِ مذہب کا الزام اس وقت عائد کیا گیا تھا جب چینی انجنیئر نے مزدوروں کے کام کی سست رفتاری پر اعتراض کیا تھا۔

یہ بھی بتایا جا رہا تھا کہ ملازمین نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ چینی انجینئر نے مبینہ طور پر اُنہیں نماز کی ادائیگی میں زیادہ وقت صرف نہ کرنے کا کہا تھا۔

خیبرپختونخوا پولیس نے چینی باشندے پر توہیِنِ مذہب کے الزام کے بعد ہونے والے مکینوں کے شدید احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے بعد حراست میں لے لیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران توہینِ مذہب کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔تاہم ایسا پہلی بار ہو اہے کہ پاکستان میں کسی غیر ملکی کو توہینِ مذہب کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔

دسمبر 2021 میں سیالکوٹ میں ایک فیکٹری میں کام کرنے والے سری لنکن مینیجر کو مشعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا الزام عائد کر نے کے بعد تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں