جنگ بندی میں 72 گھنٹے توسیع، سوڈان میں فریقین کے ایک دوسرے پر حملے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورس ’’آر ایس ایف‘‘ نے جنگ بندی میں 72 گھنٹے کی توسیع پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

دوسری جانب خرطوم میں جمعرات کے روز بھی فوج کے جنگی طیاروں نے مخالف نیم فوجی دستوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جب کہ دارفور میں لڑائی اور لوٹ مار جاری رہی۔

سعودی عرب اور امریکہ کی طرف سے دباو کے نتیجے میں سوڈانی مسلح افواج اور نیم فوجی دستے ریپیڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے جمعرات کے روز مزید 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔ جنگ بندی کی سابقہ مدت نصف شب کو ختم ہو رہی تھی۔

آر ایس ایف نے ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا، "ہم انسانی بنیادوں پر مزید 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی منظوری کا اعلان کیا جس کا آغاز 27 اپریل کی رات بارہ بجے سے ہو گا۔"

جنگ کو ختم کرانے کی کوشش کرنے والے ملکوں نے جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر نافذ کرنے کی اپیل کی ہے۔

افریقی یونین، اقوام متحدہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ نے ایک مشترکہ بیان میں فریقین سے اپیل کی کہ "وہ ایک زیادہ پائیدار جنگ بندی اور انسانیت کی بنیاد پر بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات شروع کریں۔" ان ملکوں نے کہا کہ فریقین کو امن کے لیے 20 اپریل کو پیش کیے گئے خاکے کے مطابق اپنی اپنی فوج کو واپس بلا لینا چاہئے۔

جمعرات کی نصف رات کو ختم ہونے والی سابقہ جنگ بندی کے دوران بھی فریقین میں جنگ ہوتی رہی تاہم لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے اور دیگر ملکوں کو اپنے شہریوں کے انخلاء کی اجازت تھی۔

جنگ بندی کا اعلان مگر عمل درآمد ندارد

خیال رہے کہ ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت والی ملکی فوج اور ان کے حریف بن جانے والے سابق نائب محمد حمدان دقلو [حمیدتی] کی قیادت والے نیم فوجی دستے (آر ایس ایف) کے درمیان 15 اپریل سے جنگ جاری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بتایا کہ واشنگٹن سوڈان میں پھنسے ہوئے غیر ملکی شہریوں کے انخلاء کے لیے ایک مستقل روٹ بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز بھی دارالحکومت کے نواحی علاقوں کے فضاؤں میں جنگی طیاروں کی گھن گرج سنائی دیتی رہی جب کہ زمین پر توپیں اور بھاری مشین گنیں آگ اگلتی رہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ خرطوم اور اس کے نواحی شہروں ام درمان اور باہری میں فضائی حملے ہوتے رہے اور طیارہ شکن توپوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال کسی بھی لمحے مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ اس نے اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اپنے شہریوں کو سوڈان سے نکل جانے کا مشورہ دیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کم از کم 270000 افراد جنگ کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑنے کے لیے مجبور ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کم از کم 270000 افراد جنگ کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑنے کے لیے مجبور ہو گئے ہیں۔

فریقین کے درمیان 15اپریل سے شروع ہونے والی جنگ میں کم از کم 512 افراد ہلاک اور 4200 زخمی ہو چکے ہیں۔ تشدد دارفر کے بہت بڑے علاقے کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں