سوڈان میں مستقل جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کرکام کر رہے ہیں:بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے کسی دیر پا حل یا مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی کوششیں جاری ہیں، جب کہ سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان مسلسل تیرہویں روز بھی لڑائیاں اور جھڑپیں جاری رہی۔

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس کے ساتھ واشنگٹن میں وزارت کے ہیڈکوارٹر سے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کا ملک اس مسئلے کے حل تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اہم بات سوڈانی بحران کو ختم کرنا اور ملک کو واپس سویلین حکومت کے حوالے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بحران سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ مستقل جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے گا۔

خرطوم کے مناظر
خرطوم کے مناظر

سول حکومت

امریکی وزیرخارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک سوڈان میں اقتدار سویلین کو منتقل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کوشش کرتا رہے گا انہوں نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ ہم ملک کو سویلین زیرقیادت حکومت میں واپس کر سکتے ہیں۔"

بلنکن نے کہا کہ ان کا ملک سوڈان میں تنازع کے فریقین کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے لیے "سخت محنت" کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں فوج اور محمد حمدان دقلو کی قیادت میں سریع الحرکت فورسز کے درمیان جنگ بندی کو وسعت دینے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں