طالبان خواتین پرلگائی پابندیاں فوراًواپس لیں،سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد میں مطالبہ

سلامتی کونسل کی قرارداد میں افغانستان کی معیشت کو درپیش اہم چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اپریل میں طالبان کی طرف سے اعلان کردہ پابندیاں 'انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کو مجروح' کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں بالخصوص اقوام متحدہ کے اداروں کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر طالبان کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی مذمت کی گئی ہے اور طالبان حکام پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف پابندیوں کے تمام اقدامات کو "فوراً واپس لیں۔"

سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اپریل کے اوائل میں طالبان کی جانب سے اعلان کردہ پابندیاں "انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کو مجروح کرتی ہیں۔"

سلامتی کونسل نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ "ان پالیسیوں اور طریقوں کو فوراً تبدیل کیا جائے جو خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے استفادہ کرنے پر قدغن لگاتے ہیں۔"

اس قرارداد میں تعلیم، ملازمت، نقل وحرکت کی آزادی اور عوامی زندگی میں خواتین کی مکمل، مساوی اور بامعنی شرکت تک رسائی کا ذکر کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور جاپان کی طرف سے تیار کی گئی قرارداد میں افغان خواتین پر عائد پابندی سے متعلق کہا گیا ہے کہ "اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔"

افغان معاشرے میں خواتین کے' ناگزیر کردار' پر زور دیتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر پابندی، انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کو مجروح کرتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے لیے متحدہ عرب امارات کی سفیر لانا نصیبہ نے کہا ہے کہ "افغانستان کے قریبی پڑوسی ملک، مسلم دنیا اور زمین کے تمام کونوں سے90 سے زیادہ ممالک " قرارداد کے شریک اسپانسرہیں۔

انہوں نے کونسل کو بتایا کہ "یہ حمایت آج ہمارے بنیادی پیغام کو مزید اہم بناتی ہے۔ دنیا خاموش نہیں بیٹھے گی کیوں کہ افغانستان میں خواتین کو معاشرے سے مٹایا جا رہا ہے۔"

سلامتی کونسل میں ووٹنگ افغانستان کے بارے میں یکم اور دو مئی کو دوحہ میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاس سے چند روز قبل ہوئی ہے۔

افغان مرکزی بینک کے اثاثوں کی واپسی

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں چین اور روس کے نمائندوں نے افغان مرکزی بینک کے اثاثے افغان عوام کو واپس کرنے پر زور دیا ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد میں افغانستان کی معیشت کو درپیش اہم چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے، جس میں افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو افغان عوام کے فائدے کے لیے استعمال کرنا شامل ہے۔

امریکہ نے اپنے مرکزی بینک میں موجود افغانستان کے اربوں کے ذخائر کو منجمد کر دیا تھا۔ بعد ازاں آدھی رقم سوئٹزرلینڈ کے ایک ٹرسٹ فنڈ میں منتقل کر دی تھی جس کی نگرانی امریکی، سوئس اور افغان ٹرسٹیز کر رہے تھے۔

اقوامِ متحدہ میں چین کے نائب سفیر گینگ شوانگ نے کونسل کو بتایا کہ "آج تک، ہم نے صرف اثاثوں کو ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتا دیکھا ہے، لیکن ایک پیسہ بھی افغان عوام کو واپس نہیں کیا گیا۔"

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا نے بھی افغان مرکزی بینک کے اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

طالبان اور خواتین کی تعلیم وملازمت

یاد رہے سال 2021 میں مغربی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے طالبان نے عوامی زندگی تک خواتین کی رسائی پر بھی کنٹرول سخت کر دیا ہے، جس میں خواتین کو یونیورسٹی جانے سے روکنا اور لڑکیوں کے ہائی اسکول بند کرنا شامل ہیں۔

طالبان نے دسمبر میں انسانی ہمدردی سے متعلق امدادی گروپوں کے لیے کام کرنے والی زیادہ تر خواتین کو کام سے روکنے کے بعد، اس ماہ کے شروع میں اقوامِ متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر بھی پابندی کا نفاذ شروع کر دیا تھا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، جس کی وہ ایک سخت تشریح کرتے ہیں۔ طالبان حکام نے کہا ہے کہ خواتین کارکنوں کے بارے میں فیصلے ان کے 'اندرونی معاملے' ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں