علالت کے بعد پہلی مرتبہ نحیف دکھائی دیتے ایردوان سامنے آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوان علالت کی وجہ سے دو دن کی غیر حاضری کے بعد جمعرات کو سامنے آگئے۔ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹین کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کی۔

69 سالہ ترک صدرایردوان روس کی طرف سے بنائے گئے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے افتتاح کے لیے آن لائن تقریب کے دوران اپنی میز کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں پیلی نظر آئیں۔ وہ قدرے نحیف دکھائی دے رہے تھے۔ ایردوان نے براہ راست نشریات کے دوران صحت کی خرابی کے باعث اپنی بدھ کی انتخابی سرگرمیاں منسوخ کر دی تھیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترک حکام نے انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایردوان شدید بیماری میں مبتلا ہیں اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

ترک ایوان صدر کے میڈیا اہلکار فخر الدین التون نے ٹویٹر پر بتایا کہ ہم صدر ایردوان کی صحت کے حوالے سے ایسے بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔ حکمراں جماعت کے ایک اور اہم رکن عمر جلیک نے لکھا کہ ہمارے صدر اب بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ مختصر آرام کے بعد اپنا پروگرام جاری رکھیں گے۔

ترک صدر نے پیٹ میں درد کی وجہ سے ٹیلی ویژن انٹرویو مکمل نہ کرنے کے ایک دن بعد گھر پر آرام کرنے کے لیے بدھ کی صبح انتخابی مہم منسوخ کر دی تھی۔

ایردوان نے منگل کی شام ترک چینل سیون پر ایک لائیو انٹرویو بھی دیا تاہم پروگرام کو اچانک روک دیا گیا۔ تقریباً 20 منٹ بعد جب انٹرویو دوبارہ شروع ہوا تو اردگان نے وضاحت کی کہ انتخابی مہم کے دوران انہیں "شدید معدے کا فلو" ہوا تھا۔ انہوں نے انٹرویو میں تعطل آنے کے لیے معذرت بھی کی۔ واضح رہے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ 2011 میں ترک صدر کے معدے کا کامیاب آپریشن ہوا۔

صدر، جو بدھ کے روز کرک کالے، یوزگٹ اور سیواس کے شہروں کا دورہ کرنے والے تھے، نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ وہ اپنے ڈاکٹروں کے مشورے پر گھر پر آرام کریں گے، اور ان کے نائب فوات اکتے ان تقریبات میں ان کی نمائندگی کریں گے۔

ایردوان ترکیہ کے صدر کے طور پر اپنی تیسری مدت کے لیے صدارتی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ترکیہ میں صدارتی الیکشن 14 مئی کو ہوں گے۔ ایردوان اپنی بھرپور صدارتی انتخابی مہم میں ہر روز تین یا اس سے زیادہ تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔

صدر ایردوان کو 20 سالوں میں اپنے سب سے سخت انتخابی امتحان کا سامنا ہے کیونکہ رائے عامہ کے جائزوں میں ان کے مرکزی حریف اپوزیشن پارٹی کے رہنما کمال اوگلو کو ان پر معمولی برتری حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں