ملیے عالمی سطح پر سعودی عرب کی نمائندگی کا خواب دیکھتی 10 سالہ سعودی شمشیر زن سے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

10 سالہ آیہ الجوائی کو فینسنگ یعنی شمشیر زنی سے لگاؤ ان کے دادا سے ورثے میں ملا ہے۔ دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے شمشیر زنی سیکھی اور اب تک وہ کئی بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں۔وہ اب حتمی عالمی اسٹیج یعنی اولمپکس میں سعودی عرب کی نمائندگی کا خواب دیکھتی ہیں۔

چھ سال کی عمر میں، آیہ نے دبئی میں ایم کے شمشیر زنی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی اور متحدہ عرب امارات میں کچھ بہترین شمشیرزنوں کے ساتھ تربیت شروع کی۔

ان کے والد فیصل الجوئی نے العربیہ کو بتایا کہ جب میں نے دیکھا کہ وہ کھیل کے لیے کتنی لگن رکھتی ہیں تو مجھے احساس ہوا کہ آیہ ایک پیشہ ور شمشیرزن بن سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ "وہ کھیل کے لیے بہت زیادہ جنون رکھتی ہے اور نئی تکنیکوں کو سیکھنے کے لیے ہمیشہ بے چین رہتی ہے۔ ہم نے اس کی حوصلہ افزائی کی، لیکن آخر کار یہ "آیہ" کا اپنا جذبہ اور محنت ہی تھی جس کی وجہ سے وہ آج اس مقام پر پہنچ گئی۔"

آیہ اکیڈمی کے ساتھ ساتھ نجی طور پر ہفتے میں تین بار ٹریننگ کرتی ہیں، انہوں نے ریجن میں ہونے والے مقابلوں میں 12 سے زیادہ تمغے جیتے ہیں، جن میں سات گولڈ شامل ہیں۔

صرف اس سال، سعودی فینسر نے تین بڑے مقابلوں میں سونے کے تمغے جیتے ہیں۔ جن میں یو اے ای مقابلہ شمشیر زنی انڈر 11 اور 2023 قطر انٹرنیشنل فینسنگ چیمپئن شپ شامل ہیں۔

ان کی حالیہ کامیابی فجیرہ میں ہونے والے رمضان فینسنگ ٹورنامنٹ میں شرکت تھی ، جہاں انہوں نے پہلی بار النصر سعودی کلب کی نمائندگی کی۔

اگرچہ کوئی بھی ایسا مقابلہ 10 سال کی عمر کے لیے مشکل معلوم ہو سکتا ہے، تاہم آیہ کا کہنا ہے کہ وہ دباؤ میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ "جب میں مقابلوں میں حصہ لیتی ہوں تو میں ہمیشہ پرجوش اور قدرے مضطرب ہوتی ہوں، لیکن میں بہت توجہ مرکوز رکھنے والی اور پرعزم بھی ہوتی ہوں۔"

ان کے والد نے بتایا کہ فی الحال، 10 سال کی عمر میں، وہ بڑی عمر کے کھلاڑیوں کے ساتھ تربیت کر رہی ہیں جن سے اسے مزید سیکھنے کا حوصلہ ملتا ہے،"

سعودی فینسنگ فیڈریشن کے رجسٹرڈ ممبر کے طور پر، آیہ سعودی عرب میں ہونے والی چیمپئن شپ میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔

10 سالہ شمشیر زن لڑکی نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ ایک دن اولمپک گیمز میں سعودی عرب کی نمائندگی کریں۔

انہوں نے کہا، "میں امید کرتی ہوں کہ دوسری نوجوان لڑکیوں کو کھیل میں حصہ لینے اور خوابوں کی تکمیل کے لیے حوصلہ افزائی کروں گا، چاہے وہ کتنی ہی غیر روایتی کیوں نہ لگیں۔"

سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں کھیلوں، نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت کے منصوبوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے – یہ عزم ملک کے وژن 2030 کے اصلاحاتی منصوبے کے حصے کے طور پر آتا ہے جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا ہے۔

2015 سے 2020 تک، سعودی عرب میں کھیلوں میں خواتین کی شرکت میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ہوا اور اس میں اضافہ کی توقع ہے کیونکہ سعودی حکومت اس شعبے میں بڑا سرمایہ لگا رہی ہے۔

آیہ کے والد نے العربیہ سے بات چیت کے دوران ان حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ"مجھے اپنی بیٹی کو سعودی کلب کی نمائندگی کے لیے پہلا قدم اٹھاتے دیکھ کر فخر ہے اور امید ہے کہ سعودی عرب کی کھیلوں میں سرمایہ کاری مستقبل میں بھی بڑھتی رہے گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں