سوڈان کے متحارب فریقین مذاکرات کوتیار ہیں:اقوام متحدہ ایلچی

فریقین نے مذاکرات کے لیے نمائندے نامزد کردیے لیکن ابھی کوئی نظام الاوقات طے نہیں پایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا ہے کہ سوڈان میں متحارب فریقین مذاکرات کے لیے زیادہ تیار ہیں اور انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ دو ہفتے قبل شروع ہونے والا تنازع تادیرجاری نہیں رہ سکتا۔

سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وولکر پرتھیس نے ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ فریقین نے مذاکرات کے لیے نمائندے نامزد کیے ہیں جو سعودی عرب کے شہر جدہ یا جنوبی سوڈان کے شہرجبہ میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سے متعلق عملی سوال یہ ہے کہ کیا وہ 'واقعی ایک ساتھ بیٹھنے' کے لیے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ مذاکرات کے لیے کوئی ٹائم لائن طے نہیں کی گئی ہے۔دونوں فریقوں کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے امکانات اب تک بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔جمعہ کے روز فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے ایک انٹرویو میں جنرل محمد حمدان دقلو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آر ایس ایف کے 'باغی' رہنما کے ساتھ کبھی نہیں بیٹھیں گے۔

سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان اقتدار کی طویل کشمکش کے بعد 15 اپریل کولڑائی چھڑ گئی تھی۔اس میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پرتھیس نے کہا کہ انھوں نے سلامتی کونسل کو حال ہی میں ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ وہ اس مسلح تنازع میں جیت سکتے ہیں لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ رویے تبدیل ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ دونوں سمجھتے ہیں کہ وہ جیت جائیں گے لیکن وہ دونوں مذاکرات کے لیے زیادہ کھلے ہیں، پہلے ہفتے میں ان کی گفتگو میں 'مذاکرات' کا لفظ موجود نہیں تھا۔

پرتھیس نے کہا کہ اگرچہ فریقین نے یہ بیانات دیے تھے کہ دوسرے فریق کو’’ہتھیارڈالنا یا مرنا پڑے گا‘‘ لیکن اب وہ یہ کَہ رہے ہیں:’’ٹھیک ہے ہم قبول کسی قسم کی بات چیت کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ یہ جنگ جاری نہیں رہ سکتی۔

اگرچہ فوج روزانہ فضائی حملے کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے اہم تنصیبات کا کنٹرول برقرار رکھا ہواہے لیکن دارالحکومت خرطوم میں مکینوں کا کہنا ہے کہ برسرزمین آرایس ایف کی مضبوط موجودگی ہے۔

تاہم متحارب فورسز کے درمیان لڑائی نے بجلی، پانی اور ٹیلی کمیونی کیشن کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے، اور لوٹ مار نے کاروبار اور گھروں کو تباہ کردیا ہے۔ دسیوں ہزار سوڈانی لڑائی میں یا تو دوسرے قصبوں کارُخ کررہے ہیں یا ہمسایہ ممالک کی طرف راہ فراراختیار کرگئے ہیں۔

پرتھیس کا کہنا تھا کہ فوری کام جنگ بندی کی نگرانی کا ایک طریق کار تیار کرنا تھا ، جس پر کئی بار اتفاق کیا گیا ہے لیکن لڑائی کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے اوائل میں بین الاقوامی اور مقامی ثالثوں کی جانب سے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کے دوران میں آنے والے تنازع کے آثار نظرآ رہے تھے لیکن ان کے بہ قول لڑائی شروع ہونے سے ایک رات قبل 'کشیدگی میں عارضی کمی' کا ہدف حاصل کرلیاگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں