ایکسپو 2030 کی میزبانی، ڈومینیکن نے سعودی عرب کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈومینیکن ریپبلک نے سعودی عرب کے ایک توسیعی وفد کے دورے کے دوران، جس میں سرکاری حکام اور نجی سرمایہ کار شامل تھے، ورلڈ ایکسپو کے 2030 ایڈیشن کی میزبانی کے لیے ریاض کی بولی کے لیے اپنی حمایت کی تصدیق کردی۔ اس دورہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون اور ترقی کے مواقع کی اہمیت پر بات بھی ہوئی۔

یہ اعلان ایک اجلاس کے دوران ہوا جس میں میزبان ملک کے متعدد اعلیٰ حکام کے ساتھ سعودی وفد کو اکٹھا کیا گیا جس کی قیادت ڈومینیکن ریپبلک کی نائب صدر اور منی وزارتی کونسل برائے سرمایہ کاری امور کی چیئر محترمہ راکیل پینا کر رہی تھیں۔ محترمہ راکیل پینا نے ہی سعودی عرب کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا ہماری حکومت ورلڈ ایکسپو کے لیے سعودی عرب کی حمایت کرتی ہے۔ یہ ایکسپو مہینوں پر مشتمل ہو گی۔ اس نمائش میں دنیا کے ممالک اپنی اختراعات اور صنعتی، تجارتی، فکری اور ثقافتی مصنوعات کی نمائش کریں گے۔

سعودی مواصلات کی وزارت کے انڈر سیکرٹری بدر البدر نے سعودی سرمایہ کاروں کے وفد کی سربراہی کی۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع اور ڈومینیکن ریپبلک میں فعال کاروباری ماحول کے متعلق گفت و شنید ہوئی۔

پینا نے واضح کیا کہ ڈومینیکن اور سعودی عرب کے درمیان تجارت کی شرح نمو سال 2021 کے دوران 25 فیصد تک پہنچ گئی۔ ڈومینیکن پریذیڈنسی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق محترمہ نے سعودی وفد کے دورے کو سائنسی، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں مشترکہ تعاون بڑھانے کا ایک بے مثال موقع قرار دیا۔

ڈومینیکن ریپبلک کے ساتھ تعلقات دونوں ممالک کے قریب علاقائی منڈیوں تک رسائی کو بڑھانے کا ایک مثالی موقع فراہم کرتے ہیں۔ ڈومینیکن ریپبلک اور مملکت سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تجارت گزشتہ سات سالوں میں 127 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

خیال رہے بین الاقوامی نمائش کی میزبانی کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض ستمبر میں اپنی نامزدگی کی فائل جمع کرانے کے بعد 3 دیگر شہروں کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔ باقی تین شہروں میں جنوبی کوریا کا شہر بوسان، اٹلی کا روم اور یوکرین کا شہر اوڈیسا شامل ہیں۔ یہ بین الاقوامی نمائش 1851 سے منعقد کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں