بائیڈن کے ایجنڈے کو نئے کثیر قطبی بین الاقوامی آرڈر کے درمیان بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکہ کی لیک ہونے والی خفیہ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے خفیہ جائزوں نے بتایا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے عالمی ایجنڈے کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ بڑے ترقی پذیر ممالک امریکہ، روس اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بعض صورتوں میں اس دشمنی کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

افشا ہونے والے امریکی رازوں کی ایک بڑی تعداد کے درمیان دستاویز نے بھارت، برازیل، پاکستان اور مصر سمیت بڑی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے نجی معاملات کی جھلک بھی دکھائی ہے۔ دستاویز کے مطابق اس دور میں جب امریکہ دنیا کا غیر متنازع سپر پاور نہیں رہا یہ ممالک وفاداریوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افشا ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کے نتائج ان رکاوٹوں کے متعلق نئی معلومات فراہم کر رہے ہیں جن کا بائیڈن کو آمریت کے پھیلاؤ کو مسترد کرنے کی اپنی کوششوں کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے میں سامنا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کو درپیش یہ رکاوٹیں سرحدوں سے باہر روسی دشمنی پر مشتمل ہیں۔ یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی عالمی توسیع کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی طاقتیں کنارہ کشی اختیار کرنے یا غیر جانبدار رہنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ایک اسکالر میتھیاس سپیکٹر نے کہا ہے کہ "ترقی پذیر ممالک توازن کو دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں۔ امریکہ کو چین اور روس سے طاقتور نئے مقابلے کا سامنا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ 10 سال کے عرصے میں مرکز کے مرحلے میں کون آئے گا۔ اسی لیے ان ملکوں کو خطرات کو کم کرنے اور اپنے اقدامات کو احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق گیارہ ستمبر کے بعد اربوں ڈالر کی امریکی اقتصادی اور سکیورٹی امداد حاصل کرنے والا پاکستان اب چینی سرمایہ کاری اور قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔

لیک ہونے والی دستاویزات میں سے ایک کے مطابق پاکستان کی وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے مارچ میں دلیل دی تھی کہ ان کا ملک اب چین اور امریکہ کے درمیان وسطی بنیاد برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

’’پاکستان کے سخت انتخاب" کے عنوان سے ایک داخلی میمو میں حنا ربانی کھر نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد کو مغرب کو خوش کرنے والے کے طور پر خود کو ظاہر کرنے کی روش سے گریز کرنا ہو گا۔ کھر نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کو برقرار رکھنے کی پاکستان کی جبلت بالآخر اس کے مکمل فوائد کو قربان کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری ایک سچ ہے۔

ایک اور دستاویز میں مورخہ 17 فروری کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ میں ووٹ کے حوالے سے اپنے ایک ماتحت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان روس کے ناراض ہونے کے خوف سے 32 دیگر ملکوں کے ساتھ نہیں گیا۔

اسی طرح ایک لیک ہونے والی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے 22 فروری کو بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوول اور ان کے روسی ہم منصب نکولائی پیٹروشیف کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران بھارت نے واشنگٹن یا ماسکو کا ساتھ دینے سے گریز کیا۔

ڈوول نے کثیرالجہتی ترتیبات میں روس کے لیے ہندوستان کی حمایت کا یقین دلایا۔ نئی دہلی میں ’’جی 20‘‘ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یوکرین پر تنازع وسیع تر عالمی چیلنجوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکامی کا باعث بنا۔

لیک ہونے والی دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ اجیت ڈوول نے یوکرین پر مغربی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت کرنے کے لیے دباؤ کے خلاف ہندوستان کی مزاحمت کا بھی اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک ماضی میں اپنے اصولی موقف سے انحراف نہیں کرے گا۔

بھارتی موقف سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت روس کی جنگ کی حمایت نہیں کرتا اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پوٹین کی ذاتی طور پر مذمت بھی کی گئی ہے لیکن بھارت طویل عرصے سے اقوام متحدہ میں ماسکو کی حمایت پر انحصار کرتا رہا ہے اور اس کے پاس روس کے ساتھ توانائی اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

سرد جنگ کے دوران پروان چڑھنے والی ناوابستہ تحریک کے برعکس ماہرین کا کہنا ہے کہ آج ایک مشترکہ نظریے کی راہ میں بہت کم رکاوٹ ہے۔ طاقت کے مقابلے کے اس سمندر میں گھومنے کی کوشش کرنے والی قوموں کے درمیان اب تک کوئی واضح وفاداری موجود نہیں ہے۔

دریں اثنا 17فروری کو جاری ایک جائزے کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک اس مقابلے کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ممالک امریکہ، چین اور یورپ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ وہ روس پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔

دستاویز میں ان ممالک کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن اس میں ممکنہ طور پر قازقستان جیسے ممالک شامل ہیں جو روسی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور توانائی اور تجارت میں نئی شراکت داریوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں