بند بینک، جیبیں خالی، قیمتیں آسمان پر؛ سوڈان میں شہریوں کے لیے مشکلات کے انبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان میں فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان دو ہفتوں سے جاری جھڑپوں کے بعد خرطوم اور سوڈان کی دیگر ریاستوں میں بینک اور اے ٹی ایم مشینیں بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عوام خالی ہاتھ ہیں اور روزمرہ ضروریات زندگی خریدنا دشوار ہوچکا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر لڑائی طویل ہوگئی تو یہ بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے سوڈانی اخبار ایلاف کے چیف ایڈیٹر خالد التیجانی نے کہا کہ لوگوں کو "آنے والے ہفتوں میں ایک حقیقی بحران" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ "لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے۔

خرطوم میں "کنفلوئنس ایڈوائزری" ریسرچ سینٹر کے بانی، خلود خیر نے کہا، "بینک 15 اپریل سے بند ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جن کے پاس بچت ہے وہ بھی اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔"

انہوں نے کہا، "اس کے علاوہ، غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے جو ملازم اپنی یومیہ اجرت حاصل کرتے ہیں، لڑائی شروع ہونے کے بعد سے کوئی رقم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔"

التیجانی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے کچھ موقع پرست اور لالچی عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

جن لوگوں کے پاس غیر ملکی کرنسی خصوصا ڈالر ہے انہیں اس کے عوض بہت کم مقامی کرنسی حاصل ہو رہی ہے۔

التیجانی نے کہا کہ ڈالر کی قدر اب اس بات پر منحصر ہے کہ فائدہ اٹھانے والا کتنا لالچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "واقعات سے پہلے، بلیک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 610 سوڈانی پاؤنڈ تھی، اور دو دن پہلے میں نے ڈالر کو 580 پاؤنڈ میں تبدیل کروایا ہے"۔

اشرف نے بتایا کہ انہوں نے اس کا عملی تجربہ کیا جب وہ اپنے خاندان سمیت جنگ زدہ خرطوم سے مصر نقل مکانی کی کوشش کر رہے تھے۔

مصر سوڈانی دارالحکومت سے شمال میں ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔

میرے پاس صرف ڈالر بچے تھے، لیکن بس ڈرائیور چاہتا تھا کہ اسے سوڈانی پاؤنڈز دیے جائیں تاکہ وہ ایندھن خریدنے کے لیے استعمال کر سکے۔

وہ بالآخر ڈالر لینے پر راضی ہو گئے لیکن یہ شرط رکھی کہ شرح مبادلہ 400 پاؤنڈ فی ڈالر ہو، جب کہ ایک ڈالر کی سرکاری قیمت 600 پاؤنڈ ہے۔

آزاد محقق حامد خلف اللہ نے کہا کہ "خرطوم یا ملک سے نقل مکانی کے لیے بہت زیادہ نقد رقم کی ضرورت ہے، جو اس وقت لوگوں کے پاس نہیں ہے" واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2020 میں سوڈان کی تقریباً 65 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو ملازمین کو اپریل کے مہینے کی تنخواہیں ابھی تک ادا نہیں ہوئی تھیں۔


بڑھتی ہوئی قیمتیں

اس وقت جب کہ شہری رقم کی کمی کا شکار ہیں، اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 500 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

اس صورتحال میں بہت سے شہری لین دین میں نقدی کے بجائے الیکٹرانک ایپلی کیشنز کا سہارا لے رہے ہیں۔

تاہم انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ان ایپلی کیشنز کے استعمال پر شہریوں کو تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

15 اپریل سے سوڈان کے دارالحکومت اور کئی شہروں میں عبدالفتاح البرہان کی زیر قیادت فوج اور محمد حمدان دقلو کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

سوڈانی وزارت صحت اور ڈاکٹرز سنڈیکیٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لڑائی میں اب تک کم از کم 574 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں