بھارتی خبررساں ادارے اے این آئی اوراین ڈی ٹی وی کے مرکزی ٹویٹراکاؤنٹس معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے معروف نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی اور ملک کی بڑی خبررساں ایجنسی اے این آئی،دونوں نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ان کے ٹویٹراکاؤنٹس کو بند کر دیا گیا ہے۔

ٹویٹرپر این ڈی ٹی وی کے انگریزی سروس اکاؤنٹ کے لیے سرچ @NDTV اور @ANI ہینڈل دونوں نے پیغام دیا کہ 'یہ اکاؤنٹ موجود نہیں ۔ دوسرے کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ان کے دوسرے اکاؤنٹس فعال دکھائی دیتے تھے۔

اے این آئی کی ایڈیٹر اسمیتا پرکاش نے نیوزایجنسی کے ہینڈل کو لاک کیے جانے کا اسکرین شاٹ ٹویٹ کیا ہے۔اس میں ٹویٹر سے پیغام دیا گیا کہ یہ اکاؤنٹ پلیٹ فارم پررہنے کے لیے’’عمر کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا‘‘ اوراسے ہٹا دیا جائے گا۔

این ڈی ٹی وی کے ایک اوراکاؤنٹ @ndtvindia نے ٹویٹ کیا کہ ان کے مرکزی ہینڈل کو بلاک کردیا گیا ہے ،اس نے ٹویٹرکے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) ایلون مسک کے آفیشل ہینڈل کو ٹیگ کرتے ہوئے معطل اکاؤنٹ کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ این ڈی ٹی وی کا مرکزی ہینڈل ہندوستان کا سب سے زیادہ فالو کیا جانے والا انگریزی زبان کا نیوزہینڈل ہے ، جبکہ پرکاش نے وضاحت کی ہے کہ معطلی سے پہلے اے این آئی کے اکاؤنٹ کے 76 لاکھ پیروکارتھے۔معطلی کی فوری وجہ کسی بھی فریق کی طرف سے واضح نہیں کی گئی ہے۔

امریکامیں قائم نیشنل پبلک ریڈیو اور کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (سی بی سی) سمیت متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس ماہ کے اوائل میں اپنے ٹویٹراکاؤنٹس پر پوسٹنگ بند کردی تھی کیونکہ ٹویٹر نے ان پر یہ لیبل لگایا تھا کہ ان کی ’حکومت کی جانب سے مالی اعانت" ہوتی ہے۔بعد میں ان پر یہ لیبل ہٹا دیے گئے تھے۔

بھارت کے ارب پتی اڈانی کا ملکیتی این ڈی ٹی وی ایک لسٹڈ کمپنی ہے جبکہ اے این آئی نجی خبررساں ادارہ ہے۔ ان میں سے کسی کو بھی حکومت کی طرف سے کوئی فنڈ نہیں ملتاہے۔

خبررساں ادارے اے این آئی نے رائٹرز کی جانب سے تبصرہ کرنے کی کال کا جواب نہیں دیا۔ معطلی پر تبصرہ کرنے کے لیے این ڈی ٹی وی اور ٹویٹر سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہوسکا۔

ٹویٹرنے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ اکاؤنٹس کو صرف پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی سنگین یا جاری اور باربارکی خلاف ورزیوں پرمعطل کیا جائے گا۔تاہم اس نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ایسے اکاؤنٹس معطلی کے خلاف اپیل بھی کرسکیں گے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں ٹویٹرنے کہاتھا کہ اسے 2022 کی پہلی ششماہی کے دوران میں حکومتوں کی جانب سے پلیٹ فارم سے کچھ مواد ہٹانے کے لیے 53 ہزار قانونی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں