جنگ نہ رکی تو ہمارا ملک دنیا کے لیے ڈراؤنا خواب بن جائے گا: سابق سوڈانی وزیر اعظم

اگر سوڈان حقیقی خانہ جنگی کے موڑ پر پہنچ گیا تو شام، یمن اور لیبیا محض چھوٹے جھگڑے ثابت ہوں گے: عبد اللہ حمدوک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے سابق وزیر اعظم عبد اللہ حمدوک نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں جاری خونریز جھڑپوں کو ختم کیا جائے ورنہ یہ تنازعہ دنیا کی بدترین خانہ جنگیوں میں سے ایک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

عبد اللہ حمدوک نے سوڈانی نژاد برطانوی ارب پتی ٹیلی کام بزنس مین ’’مو ابراہیم‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر سوڈان حقیقی معنوں میں خانہ جنگی کے کسی مقام تک پہنچ گیا تو پھر شام، یمن اور لیبیا کی جھڑپیں اس کے مقابلے میں محض ایک چھوٹی سی لڑائی ثابت ہوں گی۔

عبد اللہ حمدوک نے یہ انٹرویو نیروبی میں ان کے ادارے برائے حکمرانی اور قیادت کی سرگرمیوں کے حصے کے طور پر منعقد کی گئی ایک تقریب کے دوران دیا۔

عبد اللہ حمدوک نے مزید کہا یہ دنیا کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہوگا۔ اس لڑائی کے بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ تنازع دو فوجوں کے درمیان ایک "بے معنی جنگ" ہے۔ اس جنگ میں کوئی فتح یاب نہیں ہو گا۔ اس لیے اسے رک جانا چاہیے۔

واضح رہے 15 اپریل کو سوڈان میں لڑائی شروع ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر برائے رابطہ کے مطابق سوڈان میں 75 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوکر پڑوسی ملکوں مصر، ایتھوپیا، چاڈ اور جنوبی سوڈان میں چلے گئے ہیں۔

ہفتہ کو وزارت صحت کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق تنازع میں کم از کم 528 اموات اور 4 ہزار 599 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں