خرطوم کی مشہور زمانہ ’کوبر‘ جیل سے قیدیوں کے اجتماعی فرار کی ویڈیو سامنے آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ چند دنوں کے دوران سوڈانی دارالحکومت خرطوم کی مشہور کوبر جیل خاص طور پر معزول صدر عمر البشیر کے دور حکومت میں سابق رہ نماؤں کی رہائی کے بعد خاصی توجہ کا مرکز بنی ہے۔

سوڈانی فوج نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ عمر البشیر مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے ایک ہسپتال میں ہیں، انہیں خرطوم میں 15 اپریل کو لڑائی شروع ہونے سے پہلے جیل سے منتقل کر دیا گیا تھا۔

کوبر جیل کی ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں قیدیوں کا اجتماعی فرار دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ باغی ملییشا’سریع الحرکت فورسز‘ کے یونیفارم میں ملبوس اہلکار جیل کو کھول رہے ہیں۔

خرطوم کے شمال میں واقع یہ جیل تقریباً 5000 مربع میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے 14 حصے ہیں، جن میں سزائے موت پانے والوں کے لیے ایک الگ سیکشن ہے۔ جرائم پیشی عناصرکے لیے الگ، طویل اور مختصر قید کی سزا والے قیدیوں کا الگ اور سیاسی بنیادں پر قید کیے گئے افراد کے لیے الگ سیل قائم ہیں۔

تازہ جھڑپیں

یہ ویڈیو اس وقت سامنے آئی ہے جب اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود مسلح افواج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان ہفتے کے روز خرطوم اور ام درمان میں دوبارہ جھڑپیں ہوئیں۔

العربیہ/ الحدث کے نامہ نگار نے بحری میں صنعتی زون میں آتشزدگی کے پھیلنے کے علاوہ خرطوم بحری اور ام درمان کو ملانے والے حلفایا پل پر پرتشدد جھڑپوں کی خبر دی ہے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ طیاروں نے ام درمان کے اوپر نچلی پروازیں کیں۔ شہر کے مشرق میں طیارہ شکن میزائلوں اور دھماکوں کی شدید آوازیں سنی گئیں۔

خرطوم کے مناظر: اے ایف پی
خرطوم کے مناظر: اے ایف پی

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ام درمان کے جنوب میں واقع الفتحاب میں جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے یہ جھڑپیں سب سے زیادہ پرتشدد ہیں۔

تصاویر میں خرطوم کے جنوب میں جبل اولیا شہر میں فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان تصادم دکھایا گیا ہے۔

دارالحکومت کے شمال میں اٹھنے والے دھوئیں کے بادلوں کے درمیان، بھاری ہتھیاروں کے ساتھ خرطوم میں صدارتی محل کے آس پاس میں بھی لڑائی ہوتی رہی۔ تصاویر میں جنرل کمانڈ سینٹر اور خرطوم ہوائی اڈے کے آس پاس کے علاقوں میں آگ لگی دکھائی دے رہی ہے۔

سینکڑوں ہلاکتیں اور ہزاروں بے گھر

قابل ذکر ہے کہ فوج اور سریع الحرکت فورسز نے قبل ازیں جمعرات کی نصف شب سے تین روزہ جنگ بندی کی منظوری کا اعلان کیا تھا لیکن دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عاید کیے ہیں۔

15 اپریل کو دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 5 بار جنگ بندی ہو چکی ہے مگر انہیں برقرار نہیں رکھا جا سکا ہے۔

سوڈانی فوج کے سینٹرل کمان کے دفتر سے دھویں کے بادل: رائیترز
سوڈانی فوج کے سینٹرل کمان کے دفتر سے دھویں کے بادل: رائیترز

لڑائیوں میں اب تک کم از کم 500 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں تاہم جاری لڑائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ خوراک اور پینے کے پانی کی کمی، بجلی کی بندش اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ خرطوم اور اس کے اطراف کے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں