سعودی ویژن 2030

سعودی عرب میں دبئی سے دُگنا،2030 تک 3 لاکھ 15 ہزار نئے ہوٹل کمرے ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پراپرٹی کنسلٹینسی فرم نائٹ فرینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب 2030 تک 315,000 نئے ہوٹل کمرے کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مملکت میں ہوٹل کے کمروں کی تعداد پڑوسی سیاحتی مقام دبئی کے مقابلے میں دُگناسے زیادہ ہوجائےگی۔دبئی میں اس وقت ہوٹلوں کے 140،000 کمرے ہیں۔

مہمان نوازی کے شعبے کی ترقی سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت منصوبوں کا ایک اہم پہلو ہے جس کا مقصد معیشت کومتنوع بنانا اور تیل کی آمدن پرانحصار کم کرنا ہے۔

نائٹ فرینک کے مشرق اوسط سے متعلق تحقیق کے سربراہ فیصل درانی نے بتایاکہ 2030 تک سعودی عرب میں ہوٹل کے کمروں کی چابیاں مہیّاکرنے کا منصوبہ ناقابل یقین ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 450،000 کے قریب ہوٹل کمرے دستیاب ہوں گے۔

درانی نے وضاحت کی کہ اندرونی سیاحت مملکت کے منصوبے کا ایک اہم حصہ ہوگی۔نائٹ فرینک کے مطابق 65 فی صد سعودی شہری مہینے میں ایک سے تین بار اندرون ملک سفر کرتے ہیں۔

مملکت کی 56 فی صد آبادی کی عمر35 سال سے کم ہے، اس لیے رہائش کی مختلف اقسام کی طلب ممکنہ طور پر صنعت کے لیے ایک اہم عنصر کے طور پر ابھرکر سامنے آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں وسیع پیمانے پر سوچنے کی ضرورت ہوگی اور پرتعیش دیدہ زیب جگہوں اور یوتھ ہاسٹل جیسے مقامات کو شامل کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ اگراسے پھلنا پھولنا ہے،ثقافتی حساسیت اور مناسب موافقت کی ضرورت کو مدنظر رکھنا ہے تومارکیٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کوپورا کرنا ہوگا‘‘۔

نائٹ فرینک میں مہمان نوازی کے سربراہ تراب سلیم نے سعودی عرب میں شعبہ سیاحت کی ترقی میں مدد کے لیے نئے بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کی نشان دہی کی ہے۔

انھوں نے کہا:’’نئے ہوائی اڈوں اور قومی ایئرلائنزکی ترقی کے ساتھ مہمان نوازی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرکی ضرورت ہے۔نیزقانون سازی کے ایسے فریم ورک کی بھی ضرورت ہے جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے اس شعبے تک رسائی کو آسان بنایاجاسکے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں