العربیہ خصوصی رپورٹ

سوڈان: مصر کا سکیورٹی وجوہ پر اپنے شہریوں کو ’’ وادی سیدنا‘‘ چھوڑنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری وزارت خارجہ نے سوڈان کے وادی سیدنا بیس سے انخلاء کی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور بہت سے تحفظات کی وجہ سے اس وقت بیس میں موجود افراد کو جلد از جلد وہاں سے نکل جانے کی اپیل کی ہے۔

مصر نے سوڈان میں مقیم اپنے شہریوں اور وطن واپسی کے خواہاں افراد سے کہا کہ وہ انخلا کے لیے پورٹ سوڈان میں مصری قونصل خانے اور خرطوم کی سرحد پر واقع قسطل اور ارقین کراسنگ میں سے کسی ایک مقام پر پہنچ جائیں۔

مصر کی امیگریشن کی وزیر ’’سھا جندی‘‘ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور ’’الحدث ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ مصر نے سوڈان سے مصریوں کو نکالنے کے لیے صرف 3 آؤٹ لیٹس پر توجہ مرکوز کی ہے۔ دیگر راہداریوں سے انخلا میں مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ یہ دیگر مقامات شہریوں کی زندگی کے لیے خطرہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

سھا جندی نے کہا وادی سیدنا اڈہ چھوڑ کر واپس جانے کے خواہشمندوں کے لیے مصری درخواست خالص حفاظتی تخمینوں اور زمین پر آپریشنل منظر سے متعلق تحفظات کی وجہ سے ہے۔ وادی سیدنا کے اڈے پر موجود لوگوں کے لیے خطرات زیادہ ہیں۔

انہوں نے توجہ دلائی کہ مصر نے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے تین مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ ان تین مقامات پر سلامتی اور جاری جنگ کے نتیجے میں خطرے کی کمی کی یقین دہانی حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصر کی حکومت شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ وہ اپنے شہریوں کی بحفاظت واپسی چاہتی اور انہیں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی ہے۔

سھا جندی نے کہا کہ مصریوں کو نکالنے میں ترجیح بوڑھوں، بچوں، خواتین اور صحت کی سنگین اور دائمی حالت میں موجود افراد تھے۔ انہوں نے ایسے مصری نوجوانوں اور طلبہ کے کردار کی بھی تعریف کی جنہوں نے واپسی کے خواہشمندوں کی مدد کے لیے ورک ٹیمیں تشکیل دیں۔

مصری وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان سفیر احمد ابو زید نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ مصر 454 مصری شہریوں کو زمینی انخلاء کے ذریعے اور 618 شہریوں کو ہوائی انخلاء کے ذریعے سوڈان سے واپس لا چکا ہے۔ واضح رہے سوڈان میں فوجی جھڑپوں کے آغاز سے لے کر اب تک 6399 شہری مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں