سوڈان میں جنگ بندی آدھی رات کوختم ہوجائے گی جبکہ خرطوم میں لڑائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کی متحارب افواج نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا ہے۔یہ جنگ بندی اتوارکی شب ختم ہونے والی ہے جبکہ ان کے درمیان مہلک تنازع تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے اور اس کے سنگین مضمرات سے خبردار کیا گیا ہے۔

سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان 15 اپریل کو اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں لڑائی شروع ہوئی تھی اور اس میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔

دریائے نیل کے کنارے واقع سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں فریقین امریکاسمیت ثالثوں کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود مسلح لڑائی میں مصروف ہیں۔جنگ بندی کی مدت اتوار کی نصف شب(2200 جی ایم ٹی) کو ختم ہو رہی ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے ایک صحافی کاکہنا ہے کہ خرطوم میں اتوارکی صبح صورت حال نسبتاً پرسکون رہی، جہاں فوج رہائشی علاقوں میں موجود آر ایس ایف فورسز سے نبردآزما ہے۔

البتہ سوڈانی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مغرب سے خرطوم کی طرف جانے والے آر ایس ایف کے قافلوں کو تباہ کردیا ہے۔ آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ فوج نے صوبہ خرطوم کے متعدد علاقوں میں اس کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے توپ خانے اور جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔

دارالحکومت میں اپنی فورسز کو مضبوط کرنے کی کوشش میں فوج نے ہفتہ کے روز کہا کہ سنٹرل ریزرو پولیس کی جنوبی خرطوم میں تعیناتی شروع کردی گئی ہے اور آہستہ آہستہ اس کی نفری دارالحکومت کے دیگر علاقوں میں تعینات کی جائے گی۔

سینٹرل ریزرو پولیس سوڈان کی پولیس فورس کا ایک بڑا اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ڈویژن ہے جو دارفور کے مغربی علاقے اور جنوبی سوڈان کے نوبا پہاڑوں میں تنازعات سے لڑنے کا تجربہ رکھتا ہے۔

مارچ 2022 میں امریکا نے سینٹرل ریزرو پولیس پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس پر 2021 کی فوجی بغاوت کے خلاف خرطوم اور دیگر مقامات پرمظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ڈرون، لڑاکا طیارے

خرطوم میں جاری لڑائی میں اب تک آر ایس ایف کی نفری شہر بھر میں پھیلی ہوئی ہے کیونکہ فوج ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں کے ذریعے انھیں بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

رواں ماہ ہونے والے تنازع کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہمسایہ ریاستوں کی طرف جانیں بچا کرجارہے ہیں اورخبردارکیا گیا ہے کہ سوڈان بکھرسکتا ہے جس سےایک غیرمستحکم خطہ عدم استحکام کاشکارہو سکتاہے۔

اس نے سوڈان میں جمہوری حکومت قائم کرنےکے مقصد سے بین الاقوامی حمایت یافتہ سیاسی انتقال اقتدارکوبھی پٹڑی سے اتاردیاہے،جہاں سابق صدر عمرحسن البشیر کوتین دہائیوں تک اقتدارمیں رہنے کے بعد 2019 میں اقتدار سے ہٹادیا گیا تھا۔مذاکرات کے امکانات اب تک بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔

فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہاہے کہ وہ جنرل محمدحمدان دقلوکے ساتھ کبھی نہیں بیٹھیں گے۔اس کے جواب میں آرایس ایف کے سربراہ نے کہا کہ وہ فوج کی دشمنی ختم ہونےکے بعدہی بات کریں گے۔

تاہم سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وولکرپرتھیس نے ہفتے کے روز رائٹرزکو بتایا کہ انھوں نےحال ہی میں فریقین کے رویوں میں تبدیلی محسوس کی ہے اوروہ مذاکرات کے لیےزیادہ کھلے ہیں اوروہ کَہ رہے ہیں کہ وہ ’’کسی قسم کے مذاکرات کو قبول کریں گے‘‘۔

وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اب تک لڑائی میں 528 افراد ہلاک اور 4599 زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی اتنی ہی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے لیکن ان کا ماننا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

دریں اثناء ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی کاانسانی امداد سے لدا پہلا طیارہ اتوارکوسوڈان پہنچا۔اردن سے پورٹ سوڈان جانے والی اس امدادی کھیپ کے بارے میں آئی سی آر سی نے بتایا ہے کہ ’’اس میں آٹھ ٹن انسانی امداد کے سامان کے علاوہ سوڈانی اسپتالوں اور سوڈان انجمن ہلال احمرکے رضاکاروں کی مدد کے لیے سرجیکل مواد بھی شامل ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں