سوڈان میں فوج جنگ بندی میں 72 گھنٹے کی توسیع پر رضامند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سوڈان میں متحارب افواج نے اتوار کے روز ایک دوسرے پر جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا ہے لیکن دونوں فریقوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باضابطہ معاہدے کی مدت اتوار کی نصف شب ختم ہونے والی تھی مگر اب اس میں مزید 72 گھنٹےکی توسیع کی جائے گی۔

سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان 15 اپریل کو اقتدار کی کشمکش کے نتیجے میں لڑائی شروع ہوئی تھی اوراس میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔

دریائے نیل کے کنارے واقع سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں لڑائی میں مصروف متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی کی موجودہ مدت اتوار کی نصف شب(2200 جی ایم ٹی) کو ختم ہو رہی تھی۔سوڈانی فوج نے پہلے اس میں توسیع پررضامندی ظاہر کی ہے اورکہا ہے کہ اسے امید ہے کہ 'باغی' بھی معاہدے کی پاسداری کریں گے لیکن اس کا خیال ہے کہ وہ حملے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی فریقین امریکا سمیت ثالثوں کی کوششوں کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی کے دوران میں بھی لڑتے رہے ہیں۔آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ بین الاقوامی،علاقائی اور مقامی سطح پرمطالبات کے بعد کیا گیا ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے ایک صحافی کاکہنا ہے کہ خرطوم میں اتوارکی صبح صورت حال نسبتاً پرسکون رہی، جہاں فوج رہائشی علاقوں میں موجود آر ایس ایف فورسز سے نبردآزما ہے۔

البتہ سوڈانی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مغرب سے خرطوم کی طرف جانے والے آر ایس ایف کے قافلوں کو تباہ کردیا ہے جبکہ آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ فوج نے صوبہ خرطوم کے متعدد علاقوں میں اس کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے توپ خانے اور جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔

دارالحکومت میں اپنی فورسز کو مضبوط کرنے کی کوشش میں فوج نے ہفتہ کے روز کہا کہ سنٹرل ریزرو پولیس کی خرطوم میں تعیناتی شروع کردی گئی ہے اور آہستہ آہستہ اس کی نفری دارالحکومت کے دیگر علاقوں میں تعینات کی جائے گی۔

سینٹرل ریزرو پولیس سوڈان کی پولیس فورس کا ایک بڑا اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ڈویژن ہے جو دارفور کے مغربی علاقے اور جنوبی سوڈان کے نوبا پہاڑوں میں تنازعات سے لڑنے کا تجربہ رکھتا ہے۔

مارچ 2022 میں امریکا نے سینٹرل ریزرو پولیس پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس پر 2021 کی فوجی بغاوت کے خلاف خرطوم اور دیگر مقامات پرمظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

سوڈان کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس فورس کوان مارکیٹوں اور املاک کی حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا ہے جنھیں لوٹ مارکا نشانہ بنایا گیا تھا۔آر ایس ایف نے ہفتہ کے روز اسے لڑائی میں ملوث کرنے پرخبردارکیا تھا۔

'براہ راست مذاکرات نہیں'

خرطوم میں جاری لڑائی میں اب تک آر ایس ایف کی فورسز شہر بھر میں پھیلی ہوئی ہیں کیونکہ فوج ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کے حملوں کے ذریعے انھیں بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دو امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنے شہریوں کوپورٹ سوڈان سے لے جانے کے لیے ایک بحری جہاز بھیجا ہے جبکہ برطانیہ نے پیر کے روز مشرقی بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع پورٹ سوڈان سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے اضافی پرواز کے انتظام کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثناء سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وولکر پرتھیس نے پورٹ سوڈان میں صحافیوں کو بتایا کہ فریقین کے درمیان ’’کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہیں، مذاکرات کی تیاریاں ہیں‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی ممالک دونوں فریقوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

پرتھیس نے ہفتے کے روزرائٹرزکو بتایا کہ فریقین پہلے کے مقابلے میں مذاکرات کے لیے زیادہ تیار ہیں، انھوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین کے نمائندوں کے درمیان جلد براہ راست ملاقات ہوگی جس کا مقصد 'نگرانی کے طریقہ کار کے ساتھ منظم جنگ بندی کا حصول' ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان پہلے یہ کَہ چکے ہیں کہ وہ آر ایس ایف کے سربراہ جنرل محمد حمدان دقلو کے ساتھ کبھی مذاکرات میں نہیں بیٹھیں گے۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے الریاض میں جنرل عبدالفتاح البرہان کے سفیردفلہ الحاج علی سے ملاقات کی اور ان سے پُرامن رہنے کی اپیل کی۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید نے بھی جنرل البرہان سے ٹیلی فون پربات چیت کی ہے۔

واضح رہے کہ سوڈان کی چارکروڑ60 لاکھ نفوس پرمشتمل آبادی میں سے ایک تہائی کو لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی انسانی امداد کی ضرورت تھی جبکہ اس مسلح تنازع نے سوڈان میں جمہوری حکومت کے قیام کے مقصد سے بین الاقوامی حمایت یافتہ سیاسی انتقال اقتدار کے عمل کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔

معروف سویلین سیاستدان خالد عمر یوسف نے ٹویٹرپر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ جنگ کسی واحد فوج یا جمہوری منتقلی کا باعث نہیں بنے گی اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ معزول حکومت دوبارہ اقتدار میں نہیں آئے گی۔

سوڈان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ لڑائی میں 528 افراد ہلاک اور 4599 زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی اتنی ہی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے لیکن ان کا ماننا ہے کہ مہلوکین اور زخمیوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔سوڈان میں جاری لڑائی میں پانچ رضاکار امدادی کارکنان بھی مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں