سوڈان سے انخلاء: سعودی عرب بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے کس طرح تیار ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے مطابق، 15 اپریل کو سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فوج (آر ایس ایف) کے درمیان شروع ہونے والی پرتشدد لڑائی کے بعد اب تک 100,000 سے زائد افراد سوڈان چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

تنازع کے آغاز کے بعد سے 5,600 سے زیادہ افراد جن میں 239 سعودی شہری اور 102 مختلف ممالک کے تقریباً 5,390 غیر ملکی شہری شامل ہیں، کو سعودی عرب منتقل کیا گیا ہے۔

اس صورت حال میں ، جسے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے سوڈان وولکر پرتھیس کی جانب سے "بدترین صورت حال" کے طور پر بیان کیا گیا ہے، سعودی عرب نے قدم بڑھایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔

تو، سعودی عرب ان ہنگامی حالات میں اتنے بڑے پیمانے پر انخلاء کے لیے کیسے تیار تھا؟

سعودی بحریہ کے اہلکار 27 اپریل 2023 کو جدہ سی پورٹ پرسعودی عرب کی طرف سے سوڈان سے نکالے جانے کے بعد مختلف قومیتوں کے شہریوں کی مدد کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
سعودی بحریہ کے اہلکار 27 اپریل 2023 کو جدہ سی پورٹ پرسعودی عرب کی طرف سے سوڈان سے نکالے جانے کے بعد مختلف قومیتوں کے شہریوں کی مدد کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

مختلف داخلی مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں

جب حکام کو یہ اطلاع ملی کہ انہیں ان لوگوں کی آمد کے لیے بڑے پیمانے پر تیاری کرنے کی ضرورت ہے جو مختلف داخلی راستوں سے سوڈان سے سعودی عرب میں داخل ہوں گے، تو انہوں نے فوری طور پر طریقہ کار کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پروٹوکول کو نافذ کیا۔

شاہ فیصل بحری اڈے اور جدہ بندرگاہ پر ان ہزاروں پناہ گزینوں کا خیرمقدم کیا گیا جو سمندر کے راستے سوڈان سے نکلے تھے۔ ان میں امریکہ، کینیڈا، یمن، انڈونیشیا، یوکرین، برطانیہ، شام، ترکی اور بہت سے دوسرے ممالک کے شہری شامل تھے۔

العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جیسے ہی جہاز کسی ایک بندرگاہ پر پہنچتا ہے، سعودی عرب کے بحری اڈوں پر موجود افسران کو بتایا جاتا ہے کہ جہاز میں کتنے مسافر سوار ہیں اور ان کی قومیتیں کیا ہیں۔

ایک بار جب معلومات کی تصدیق ہو جاتی ہے، جہازوں کو پہلے سے نامزد جگہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ مسافروں کو محفوظ طریقے سے جہاز سے اتارا جا سکے۔

26 اپریل 2023 کو جدہ سی پورٹ پر سعودی عرب کی جانب سے سوڈان سے نکالے جانے کے بعد شہری ایک سعودی تجارتی جہاز پر سوار نظر آ رہے ہیں۔ (رائٹرز)
26 اپریل 2023 کو جدہ سی پورٹ پر سعودی عرب کی جانب سے سوڈان سے نکالے جانے کے بعد شہری ایک سعودی تجارتی جہاز پر سوار نظر آ رہے ہیں۔ (رائٹرز)

داخلے کے طریقہ کار کو ہموار کر دیا گیا

جدہ اسلامک پورٹ پر آنے والے مسافروں کے استقبال کے لیے سو سے زائد کاؤنٹرز کھولے گئے ہیں، پاسپورٹ کنٹرول کے طریقہ کار میں ہر شخص کو چیک کرنے میں 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔

اس بات کے پیش نظر کہ بہت سے افراد پہلے سے تیار نہیں تھے یا شدید لڑائی کے علاقوں سے نکلتے وقت ضروری دستاویزات نہیں لا سکے، سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں جہاں انخلا کرنے والوں کے پاس داخلے کا درست ویزا یا پاسپورٹ نہ ہو۔

سعودی پریس ایجنسی نے بدھ کے روز خبر دی کہ سعودی عرب میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ وہ انخلاء کے دوران ان کے داخلے اور خروج کے عمل کی تکمیل کو تیز کرنے کے لیے سفارت خانوں کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔

26 اپریل 2023 کو جدہ سی پورٹ پر سعودی عرب کی جانب سے سوڈان سے نکالے جانے کے بعد شہری ایک سعودی تجارتی جہاز پر سوار نظر آ رہے ہیں۔ (رائٹرز)
26 اپریل 2023 کو جدہ سی پورٹ پر سعودی عرب کی جانب سے سوڈان سے نکالے جانے کے بعد شہری ایک سعودی تجارتی جہاز پر سوار نظر آ رہے ہیں۔ (رائٹرز)

ہوٹلوں اور رہائش کا تعین کرنا

انخلا اور داخلے کے عمل کے بعد، درجنوں پبلک بسیں انہیں ہوٹلوں اور عارضی رہائش گاہوں تک پہنچانے کے لیے مخصوص کی گئی ہیں جہاں وہ وہ اپنے آبائی ممالک کو واپس جانے کے عمل کی تکمیل تک رک سکتے ہیں۔

قابل تعریف اقدام

سوڈان سے شہریوں کے موثر انخلاء میں سعودی عرب کے کردار کی عالمی سطح پر تعریف کی جارہی ہے۔

ایران سے ہالینڈ تک، سفیروں اور عالمی رہنماؤں نے دنیا بھر کے لوگوں کو نکالنے کی کوششوں پر سعودی عرب کی حکومت کو سراہا ہے۔

جدہ میں برطانوی قونصل جنرل سیسیل ال بیلیدی نے گزشتہ ماہ سوڈان سے برطانوی شہریوں کے انخلاء میں سعودی حکومت کے کردار پر سعودی عرب کے شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

جدہ میں امریکی قونصل جنرل فارس اسد نے مملکت کی انسانی ہمدردی کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ مملکت کے تمام اداروں کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے ، امریکی شہریوں کی سعودی سرزمین پر آمد سے روانگی تک کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

جدہ میں لیبیا کے قونصل جنرل عبدالرزاق المنفی اور عراق کی نائب قونصل مایا ہادی نے بھی مملکت کی کوششوں کو سراہا۔

واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کے ترجمان فہد نذیر نے کہا کہ سعودی عرب درجنوں غیر ملکی شہریوں کو نکال کر سوڈان کے بحران کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سوڈان میں جاری تشدد کے نتیجے میں 500 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں