’چُبھنے والا‘ سوال کرنے پرٹرمپ نے صحافی کواپنے نجی طیارے سے اتار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک "این بی سی" کے نامہ نگار کے پوچھے گئے ایک سوال پر ناراض ہو کر ان سے ان کے دو موبائل فون چھین لیے اور اپنے نجی طیارے سے اتارنے کو کہا تھا۔ امریکی میگزین وینٹی فیئر نے اپنی ایک خبر میں کہا ہے کہ وان ہلیارڈ کی بے دخلی 25 مارچ کو ٹیکساس کے واکو سٹی ایئرپورٹ پر ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے بعد ہوئی۔ اس کے بعد ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اس خبر کی تصدیق کرنے والی آڈیو ریکارڈنگ حاصل کی۔

ٹرمپ اس دن فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ کے لیے روانہ ہونے سے قبل اپنے نجی طیارے میں متعدد نامہ نگاروں سے بات کر رہے تھے۔ جب رپورٹر نے اپنی کوریج میں اشارہ کیا کہ وہ اس سوال سے "مایوس" دکھائی دے رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ ’ان کے سوال نے ٹرمپ کے اعصاب پر حملہ کیا ہے۔

تب ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے رپورٹر سے کہا کہ "میں بالکل مایوس نہیں ہوں۔ کیا میں مایوس ہوں؟ میں نے صرف دو گھنٹے بات کی ہے۔ میں مایوس نہیں ہوں۔ یہ ایک جعلی تحقیقات ہے۔ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ میں نے آپ کو بتایا۔ یہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ یہ جعلی خبر ہے۔

مزید مت پوچھو۔ میں نے سنا ہے کہ آپ NBC سے اچھے آدمی ہیں، لیکن آپ نہیں ہیں"۔ ٹرمپ کا یہ آڈیو بیان العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے سنا ہے جس میں انہیں ایک صحافی پر برہمی کا اظہار کرتے سنا جا سکتا ہے۔

جب رپورٹر نے بولنے کی کوشش کی تو ٹرمپ نے اسے روکا اور کہا کہ ’’میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ تم اچھے آدمی نہیں ہو۔‘‘ پھر اس نے اس کے دو موبائل فون پکڑ لیے، جو اس کے سامنے ایک میز پر پڑے تھے۔ اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اسے یہاں سے نکال دیں۔

تاہم، "واشنگٹن پوسٹ" نے اطلاع دی ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ہلیارڈ کو ٹرمپ کے طیارے سے نکالا گیا ہے یا نہیں، جب کہ ان کی مہم کے ترجمان اسٹیون چیونگ کا کہنا ہے کہ طیارے میں موجود صحافیوں سے متعلق "کوئی منفی واقعہ نہیں ہوا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں