امریکا میں کیپیٹل ہل ہنگامے میں پولیس پر کالی مرچ اسپرے کے مجرم کو 14 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پنسلوانیا کے ایک شخص جسے امریکی کیپیٹل ہل کے باہر پولیس افسران پر کالی مرچ سپرے کرنے ، سنگین حملوں اور دیگر الزامات میں قصوروار پایا گیا، جمعہ کو 14 سال قید سزا سنائی گئی۔

یہ 6 جنوری 2021 کے کیپٹل ہل پر ہوئے فسادات میں مجرم ٹھہرائے جانے والے کسی بھی شخص کے لیے اب تک کی سب سے طویل قید ہے۔

49 سالہ پیٹر جے شوارٹز، ، کو گزشتہ دسمبر میں وفاقی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران مجرم قرار دیا گیا تھا جہاں شواہد سے پتہ چلا کہ وہ کیپیٹل کی نچلے مغربی چھت پر پولیس پر حملہ کرنے والے ہجوم کی صف میں تھا، اور بعد میں اس نے فخر سے یہ اعلان کیا کہ اس نے پہلی کرسی پھینک کر "ہنگامہ شروع کیا"۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ شوارٹز نے اس کے بعد کالی مرچ کے اسپرے کے کنستروں سے بھرا ایک پولیس ڈفل بیگ پکڑا اور اسے اپنی بیوی سمیت ہجوم میں موجود دوسروں کے حوالے کر دیا، تاکہ وہ انہیں پولیس افسران کے خلاف استعمال کر سکیں۔

حکومت کے موقف کے مطابق، شوارٹز نے پسپائی اختیار کرنے والے اہلکاروں کا پیچھا کرنا شروع کر دیا اور ان پر کالی مرچ کے اسپرے سے حملہ کرتا رہا۔

پیشے کے لحاظ سے ایک ویلڈر، شوارٹز کو فروری کے شروع میں اس کے آبائی شہر یونین ٹاؤن، پنسلوانیا میں گرفتار کیا گیا تھا۔

شوارٹز اور دو ساتھی مدعا علیہان، جیفری سکاٹ براؤن اور مارکس میلی، 6 جنوری کو پولیس افسران پر کالی مرچ کے اسپرے سے حملہ کرنے کے مقدمے میں سزا پانے والے پہلے تین افراد بن گئے۔

براؤن کو گزشتہ ماہ 4 1/2 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مالی، سزا کا انتظار کر رہا ہے۔ شوارٹز کی اہلیہ شیلی اسٹالنگس کو گذشتہ ماہ دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔

شوارٹز کو خطرناک ہتھیار سے حملہ کرنے کے چار الزامات اور چھ دیگر الزامات میں مجرم پایا گیا تھا، جن میں سرکاری کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا، خطرناک ہتھیار کے ساتھ ایک ممنوعہ عمارت میں داخل ہونا اور کسی ممنوعہ عمارت میں جسمانی تشدد میں ملوث ہونا شامل ہیں۔


اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہنگامہ آرائی میں اب تک کم از کم 950 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے اور 600 سے زیادہ کو سزا سنائی گئی ہے۔ 6 جنوری کا حملہ 1812 کی جنگ کے دوران واشنگٹن پر برطانوی حملے کے بعد کانگریس ہال پر سب سے زیادہ پرتشدد حملہ تھا۔

ٹرمپ نے اس دن ایک تقریر میں اپنے پیروکاروں پر زور دیا تھا کہ وہ ڈیموکریٹ جو بائیڈن کی 2020 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے کانگریسی سرٹیفیکیشن میں خلل ڈالنے کے لیے "عذاب کی طرح لڑیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں