ایران سے مقابلہ، امریکہ کا شرق اوسط میں مزید روبوٹ کشتیاں بھیجنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ جزیرہ نما عرب کے ارد گرد درجنوں مزید روبوٹ کشتیوں کا اضافہ کریں تاکہ ایران جیسے ملکوں سے خطرات کا بہتر طور پر پتہ لگایا جا سکے۔ یہ اقدام عالمی تجارت اور تیل کی تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے کیا جائے گا۔

امریکہ اس وقت بحرین سے باہر دو بین الاقوامی بحری اتحادوں کی قیادت کر رہا ہے اور اب وہ 100 سے زیادہ بغیر ڈرائیور کی سرفیس گاڑیاں (یو ایس ویز) سمندر میں بھجینا چاہ رہا ہے۔ "ان مینڈ سرفیس وہیکل" ایسی گاڑیاں ہوں گی جنہیں بعض اوقات "سمندری روبوٹ" بھی کہا جا سکے گا۔ یہ گاڑیاں موسم گرما کے اختتام تک آپریشن میں شامل ہو جائیں گی۔

اتحادیوں اور بحرین میں موجود پانچویں بحری بیڑے کی کمانڈ کرنے والے وائس ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ 50 کا ابتدائی ہدف فروری میں پورا کرلیا گیا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی امریکی شراکت داری کو گہرا کرنے کا ایک سستا اور موثر طریقہ فراہم کر رہی ہے۔

یہ منصوبہ اس وقت انجام دیا جا رہا ہے جب ایران چین کی ثالثی میں امریکی اتحادی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے معاہدے کے ذریعے طاقت پا رہا ہے۔ ایران نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ میں دوسرا آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا ہے۔

امریکی بحریہ نے ان کشتیوں کی فوٹیج جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی ملکیت ہیں جو اس وقت پاناما کے جھنڈے والے آئل ٹینکر "نیووی" پر سوار تھیں جب یہ ٹینکر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔

ایران کے علاوہ امریکہ خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ فوجی اور سکیورٹی تعلقات کو بڑھانے کی چین کی کوششوں پر بھی فکر مند ہے۔ یہ خلیجی ریاستیں تاریخی طور پر دفاعی ضروریات کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ اب چین ان میں سے بیشتر ملکوں کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر اور خطے سے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ چین کا پہلے ہی قرن افریقہ میں جبوتی میں بحری اڈہ موجود ہے۔

سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے دفاعی ماہر جان شواس نے کہا ہے کہ یہ منطقی بات ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں فوجی اڈے چاہے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر قریب تر رہ کر کارروائی کی جا سکے۔ مارچ میں چین نے خلیج عمان میں ایران اور روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں کی تھیں۔

کوپر نے ان مشقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آپ ایک ابتدائی مشق کا موازنہ بڑے شراکت داروں کے ساتھ وسیع انضمام سے نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس سال کے شروع میں امریکی قیادت میں ہونے والی بحری مشق کو خطے کی سب سے بڑی مشق قرار دیا۔ ان مشقوں میں 42 ممالک، 7000 افراد، 35 بحری جہاز اور 30 یو ایس وی شامل تھے۔

سکرینوں اور کمپیوٹرز سے بھرے بحرین نیول بیس کے ایک آپریشن روم میں ٹاسک فورس 59 کے کمانڈر کیپٹن کولن کوریڈن جو نئے یو ایس ویز کی تعیناتی کے لیے ذمہ دار بھی ہے نے کہا کہ سمندری روبوٹس سے جمع کی گئی بہت سی فوٹیجز اور معلومات مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تیار کی گئی ہیں۔ ان یو ایس ویز کو کینیڈا، اسرائیلی اور امریکی کمپنیوں نے بنایا ہے۔ اور ان کی قیمت 8 لاکھ ڈالر سے 30 لاکھ ڈالر تک ہے۔

ان یو ایس ویز کا سائز سست رفتاری سے چلنے والی شمسی توانائی سے چلنے والی کشتیوں سے لے کر بڑی بغیر ڈرائیور کی سپیڈ بوٹس تک ہے۔ یہ گاڑیاں صرف پانی پر نظر رکھتی اور مسلسل سگنل بھیجتی ہیں۔

ایک آؤٹ ڈور ہینگر پر جس میں یو ایس وی کے کچھ ماڈلز دکھائے جاتے ہیں ہسپانوی بحریہ کے لیفٹیننٹ کمانڈر جارج لینس اور کوریڈن کی ٹاسک فورس کے ایک رکن نے کہا کہ ان یو ایس ویز میں سے کچھ بحری کشتیاں مہینوں تک ایندھن بھرنے اور دوبارہ سپلائی کیے بغیر باہر رہ سکتی ہیں۔ یہ بحیرہ احمر میں ریکارڈ 220 دن گزار سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں