جیک سلیوان کے دورہ کے باعث سعودی عرب کیساتھ تعلقات میں بریک تھرو کی امید ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے سینئر سکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے دورہ سعودی عرب سے تل ابیب کو اپنے ریاض کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں پیش رفت کی امید ہے۔

اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ زاچی ہنیگبی نے بدھ کے روز اپنے امریکی ہم منصب سلیوان سے بات کی۔ جیک سلیوان ہفتے کو سعودی عرب کا سفر کرنے والے ہیں۔ ہنیگبی نے کہا کہ سلیوان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات متوقع ہے۔

جمعرات کو اپنے سفر کا اعلان کرتے ہوئے سلیوان نے کہا تھا کہ واشنگٹن اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے- یہ ایک بڑا ہدف ہے جو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے طے کیا ہے۔ نیتن یاھو نے نے ہنیگبی کے ساتھ سلیوان کی ویڈیو کال میں مختصر طور پر شمولیت بھی اختیار کی۔

ہنیگبی نے ’’ریسیٹ 13 نیوز‘ کو بتایا"ہم انتہائی پر امید ہیں کہ وہاں ان کے دورے کے دوران کوئی پیش رفت ہوگی۔"

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سعودی رہنماؤں اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر کوئی پیش رفت ہوگی؟ ہانگیبی نے کہا "ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ سعودی اور اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان فون کالز سے زیادہ بات ہوئی ہے۔ لیکن جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ میں شامل کرنے کے اقدام کی قیادت کر رہا ہے۔ تعلقات کو معمول پر لانے اور اسرائیل کے ساتھ امن کے قیام کے عمل کی قیادت کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک تاریخی موڑ ہوگا۔

واضح رہے سابق امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں تاریخی امن معاہدے کی ثالثی کی تھی جسے ’’ابراہیم معاہدہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس معاہدہ میں خلیجی اتحادیوں متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانا بھی شامل تھا۔

سعودی عرب نے 2020 کے معاہدوں کی منظوری کا عندیہ دیا تھا تاہم اس پر عمل کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے رک گیا تھا کہ سعودی عرب کے لیے فلسطینی اہداف کو پہلے حل کیا جانا ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں