آسٹریلیا: شاہ چارلس کی تاج پوشی پر اوپیرا ہائوس کو روشن نہ کرنے کا فیصلہ

بادشاہت کا کردار آسٹریلیا بھر میں متنازعہ، سڈنی اوپیرا ہاؤس کو روشن نہ کرنے کا فیصلہ اخراجات بچانے کے لیے ہے: حکومتی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں شاہ چارلس سوم کی تاج پوشی کی مناسبت سے آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز نے اپنی مشہور عمارت "سڈنی اوپیرا ہاؤس" کو روشن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں بادشاہت کے کردار کو متنازع سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی کنگ چارلس کی تاج پوشی کی خوشی میں ریاست کے دارالحکومت کینبرا میں ایک طرف پارلیمنٹ ہاؤس کو شاہی جامنی رنگ سے روشن کیا جائے گا تو دوسری طرف آسٹریلیا کی ریاستی حکومت نیو ساؤتھ ویلز کے ایک ترجمان نے ہفتہ کو بتایا کہ اس تاج پوشی کے موقع پر سڈنی اوپیرا ہاؤس کے عمارت کو روشن نہ کرنے کے فیصلے کا مقصد اخراجات کو بچانا ہے۔

بادشاہت کا کردار آسٹریلیا کے کچھ حصوں میں متنازع ہے اور اس بادشاہت پر اب کنگ چارلس صدارت کے عہدے پر فائز ہیں۔ آسٹریلیا نے 1999 میں جمہوریہ بننے کے لیے ریفرنڈم کرایا تھا لیکن 55 فیصد ووٹروں نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ تاہم حال ہی میں کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں جمہوریہ بننے کی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سڈنی اوپیرا ہاؤس نے گزشتہ سال ملکہ الزبتھ دوم کی موت کی یاد میں روشنیاں روشن کی تھیں۔

نیو ساؤتھ ویلز کے حکومتی ترجمان نے کہا کہ بڑھتے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے جشن کے موقع پر کمیونٹی کی توقعات کو پورا کرنے کے لحاظ سے توازن قائم کیا گیا ہے۔

کل اتوار کو پارلیمنٹ کی عمارت میں منعقد ہونے والی تقریبات میں آسٹریلوی فوج کے ارکان 21 توپوں کی سلامی دیں گے اور آسٹریلوی فضائیہ بھی تقریب میں شمولیت اختیار کرے گی۔

وزیر اعظم انتھونی البانیز جو تاج پوشی کی تقریب میں شرکت کے لیے لندن میں ہیں، نے کہا کہ وہ ریپبلکن ہونے کے باوجود تقریب میں کنگ چارلس سے وفاداری کا حلف اٹھائیں گے۔

البانیز نے جمعہ کے روز سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا میں چاہوں گا کہ ریاست کا سربراہ کوئی آسٹریلوی ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موجودہ نظام حکومت کے ادارے کی بے عزتی کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں