مصری ہوٹل نے ہم وطنوں کا داخلہ روک دیا، پارلیمنٹ جواب طلبی کے لیے متحرک

انتظامیہ نے بغیر پیشگی انتباہ مصریوں کو آنے سے روکا اور غیر ملکیوں کو اجازت دی: رکن پارلیمنٹ سمیرا الجزار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں شمال مغربی علاقے ’’سیوہ ‘‘کے نخلستان میں ایک مصری ہوٹل نے اپنے اشتہار سے ملک بھر میں عدم اطمینان کی کیفیت پیدا کردی اور ہوٹل کے اس اقدام نے پارلیمنٹ کو بھی کارروائی کرنے پر مجبور کردیا۔ گورنری ’’مرسی مطروح‘‘ کے سے 300 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہوٹل نے اعلان کیا کہ ’’ مصریوں کو داخلے کی اجازت نہیں‘‘ ہے۔ مصری ہوٹل کے قریب بھی نہیں جائیں گے۔ ہوٹل میں صرف غیر ملکی ہی داخل ہوسکیں گے۔ رکن پارلیمنٹ سمیرا الجزار نے معاملہ پارلیمان میں اٹھا دیا اور اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔

مصر میں سیوہ نخلستان
مصر میں سیوہ نخلستان
Advertisement

مصری رکن پارلیمنٹ سمیرا الجزار نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘کو بتایا کہ مشہور ہوٹل کی انتظامیہ نے بغیر پیشگی انتباہ یا وضاحت کے مصریوں کو ہوٹل میں داخل ہونے اور اس کے قریب جانے یا اس سے ملحقہ کسی اور علاقے میں داخل ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا ۔ اور غیر ملکیوں کو اجازت دی ۔ یہ واضح نسلی امتیاز ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے کنونشنوں کی بھی صریخ خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہوٹل کسی بھی سرکاری ادارے کے ساتھ وابستہ نہیں ہے۔ ہم نے پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور وزیر سیاحت سے استفسار کیا ہے کہ ان مسائل پر وضاحت دیں کہ وہ کونسی صورت حال ہے جس میں مصر میں ایسے ہوٹل بنائے جا رہے ہیں جہاں مصریوں کا داخلہ ممنوع ہے اور انتظامیہ کو بھی معلوم نہیں کہ اندر کیا چل رہا ہے۔

رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا کہ ہوٹل انتظامیہ نے مصری شہریوں کو بھی ’’سیوہ ‘‘ آنے سے بھی روکا ہے۔ اس سے مزید شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں