امریکی ریاست میں قتل عام میں ملوث ملزم کی ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی ریاست ٹیکساس میں ہفتے کی شام ڈیلاس شہر میں اندھا دھند گولیاں برسا کر آٹھ افراد کو موت کی نیند سلانے والے شخص کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔

‘ٹویٹر’ پر پوسٹ کردہ اس ویڈیو میں اندھا دھند گولیاں چلانے والے شخص کو بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس نے جوابی کارروائی کے دوران ملزم کو ہلاک کردیا تھا۔

یہ واقعہ ٹیکساس سے چالیس کلو میٹر دور ایلن کے ایک شاپنگ سینٹر کے باہر پیش آیا جہاں فائرنگ سے 8 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے تھے۔

اس قتل عام کے مرتکب کے بارے میں ذاتی معلومات ہفتے کی سہ پہرتک سامنے نہیں آئی تھیں جبکہ ٹیلی ویژن فوٹیج میں اس کے اجتماعی قتل عام کے نشانات دکھائے گئے، جن میں سینٹر کے باہر فٹ پاتھوں پر خون بھی شامل ہے۔ مقتولین کی لاشوں کو سفید کپڑوں میں ڈھانپ کر رکھا گیا تھا۔

جہاں تک اس ویڈیو کا تعلق ہے تو یہ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ٹویٹر’ کے @rawsalert نامی اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے جسے دوسرے اکاؤنٹس نے بھی نقل کیا اور ‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’ کی نظر سے بھی گذری ہے۔ ایک ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم نے شاپنگ مال میں آنے والے افراد پر 30 سے 40 گولیاں چلائیں۔ تاہم اکاؤنٹ نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اسے کیسے معلوم ہوا کہ ویڈیو میں بھاگنے والا شخص قتل عام کا مرتکب ہے، کیونکہ وہ مفرور بھی تو ہو سکتا ہے۔

واقعے کے وقت ایلن پریمیم آؤٹ لیٹس شاپنگ سینٹر میں سیکڑوں افراد موجود تھے۔ پولیس نے انہیں باہر نکلنے کو کہا اور ان سب نے ہاتھ اٹھا رکھے تھے۔

اس موقعے پر شہر میں 16 ہسپتال چلانے والے ایک طبی ادارے نے امریکی فاکس نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایا کہ زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ ان کی عمریں 5 سال سے 61 سال کے درمیان ہیں اور ان میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

AR-15

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے اس قتل عام کو ایک ’خوفناک سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ریاست ایک لاکھ سے زائد آبادی والے شہر ’ایلن‘ کے حکام کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار نے اپنی بندوق سے گولی چلاتے ہوئےملزم کو قتل کردیا۔ ملزم کی یہ کارروائی اس کا انفرادی جرم قرار دی جا رہی ہے۔

ایک عینی شاہد نے اتوار کی صبح "ٹویٹر" پر بتایا کہ اس نے موت کے بعد قاتل کی لاش کو زمین پر دیکھا اور اس کے پاس ایک "AR-15 سیمی آٹومیٹک" رائفل تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اسی بندوق سے لوگوں پر گولیاں چلائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں