مصرمیں قاری رفعت کے مقبرے کی مسماری کے فیصلے پرمرحوم کے خاندان کا اعتراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں عربی ادب کے ممتاز ادیب ڈاکٹر طحہٰ حسین کےمقبرے کے ساتھ پیش آنے واقعے کی طرز پر مشہور قاری محمد رفعت کے مقبرے کی مسماری کا متنازع معاملہ سامنے آیا ہے۔

مرحوم قاری محمد رفعت کے لواحقین کا کہنا ہے کہ حکام کی طرف سے انہیں بتایا گیا ہے کہ صلاح سالم چوک کی تیاری کے لیے قاری رفعت کے مقبرے کی مسماری کا کہا گیا ہے۔ تاہم مرحوم کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکام سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری طرف عوامی حلقوں میں بھی اس واقعے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

قاری محمد رفعت کے مقبرہ کی تصویر
قاری محمد رفعت کے مقبرہ کی تصویر

قاہرہ گورنری کی انتظامیہ نے مرحوم قاری رفعت کےخاندان کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان کے اہل خانہ کو مطلع کیا گیا ہے کہ مقبرے کو ہٹانے کا فیصلہ مفاد عامہ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ صلاح سالم چوک کی توسیع کے لیے کیا گیا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہےکہ دارالحکومت میں واقع کئی قبرستانوں جن میں جدید اور قدیم سیدہ نفیسہ قبرستان، قبرستان امام شافعی، الطحاویہ، سیدی جلال، باب الوزیر، المجاورین، اور سیدی عمر کے پرانے اور نئے مقبروں کے علاقے شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جن قبرستانوں کو مسمار کیا جا رہا ہے ان میں موجود قبروں میں میتوں کی باقیات کو ان کے ورثاء کے ساتھ مشورے کے مطابق دوسرے مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے عوامی حلقوں میں شدید رد عمل کو جنم دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے قاری رفعت کی قبر مسمار کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ان کے مداح ان کی برسی اور یوم پیدائش ایک ساتھ منا رہے ہیں۔ آج 9 مئی 1883ء کو پیدا ہوئے اور اسی دن 1950ء کو انتقال کرگئے تھے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت مرحوم قاری رفعت کےمقبرے کی مسماری کا فیصلہ روکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں