نشے کی لعنت جرائم کا نقطہ آغاز تھا: نشے کی عادت ترک کرنے والے شخص کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض کے الارادہ اسپتال میں علاج کے بعد نشے کی عادت ترک کرنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ ‘نشے کی لعنت جرائم کی طرف موڑنے کا نقطہ آغاز تھا’۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے علاج کے مراحل سے گذرنے والے منشیات کے عادی شخص نے کہا کہ "پیسہ ختم ہو گیا اور صحت خراب ہو گئی تھی۔ اس نے نشے کی عادت اپنائی اور اس کے بعد دیگر جرائم شروع کردیے۔ نشے کی عادت جرائم کی طرف بڑھنے کا نقطہ آغاز تھا، منشیات اور دیگر جرائم کی وجہ سے جیل جانا پڑا"۔ جیل سے رہائی کے بعد اس نے دوبارہ یہ دھندہ شروع کردیا۔ وہ الارادہ اسپتال میں زیرعلاج رہا اور آج وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست ہے۔

منشیات کے استعمال سے صحت یاب ہونے والے شخص نےاپنا نام ظاہرنہیں کیا۔ اس نے ‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ "منشیات کے استعمال کے ساتھ میرے سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب میں نوعمرتھا۔ اس نے بتایا کہ منشیات کے تجربے کا آغاز کیپٹاگون گولیوں کے استعمال سے ہوا تھا۔ اس کے بعد میں اس زہریلے مادے کا استعمال کرتا رہا یہاں تک کہ میں اس کا عادی ہو گیا۔ پیسے کی کمی کے نتیجے میں میں نے بڑی مقدار میں منشیات استعمال کرنے والوں کو فروخت کرنے کے لیے بچا لیا، یہاں تک کہ مجھے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔"

کپٹاگون کی نشہ آور گولیاں
کپٹاگون کی نشہ آور گولیاں

سعودی جیل میں قید تھا تو میں وہاں مجرموں اور اسمگلروں سے آشنا ہوا اور جب میں باہر نکلا تو میں واپس چلا گیا اور منشیات کا استعمال شروع کردیا۔ وہ مجھے پوائنٹ صفر پر واپس لے آیا۔ میری صحت گر گئی اور پیسہ ختم ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے برے دوستوں کی صحبت اختیار کرلی۔ وہ مجھے منشیات فروخت کرنے کے لیے دیتے اور اس کے عوض مجھے اپنے لیے مفت منشیات مل جاتی۔

شبو اور جرائم کا ارتکاب

اس نے مزید کہا کہ "میں نے کیپٹاگون کی منشیات جاری رکھنے کے بعد اس کی لت کے نتیجے میں ایک اور قسم کی دوائی آزمانے کا فیصلہ کیا جب میں 7 سال کے وقفے کے بعد ایک ہم جماعت سے ملا۔ اس کی پیش کش پر میں نے نشہ آور (شبو) کو آزمانے کا خیال آیا تو یہ جرم کرنے اور سماجی اور صحت کے مسائل کے لیے اہم موڑ تھا۔

اس نے کہا کہ جب ہم نے شبو نامی مادہ استعمال کیا تو میرے دوست کی صحت اور نفسیاتی حالت بگڑ گئی یہاں تک کہ اس خطرناک مادے کے منفی اثرات کے نتیجے میں اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ دوست نے ریاض کے ارادہ ہسپتال میں میڈیکل اپوائنٹمنٹ کا اندراج کروا کر میری مدد کی، جہاں میں نے ڈیٹاکسیفکیشن اور ایڈجسٹمنٹ کے لیے علاج حاصل کیا۔ علاج کے اس پروگرام نے مجھے رویے میں تبدیلی لانے اور یہ جاننے میں مدد کی کہ یہ بیماری کتنی سنگین ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں