نوجوانوں کے بعد سب سے زیادہ بااثر ترکیہ کی خواتین کس کو ووٹ دیں گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکیہ میں کل اتوار کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ترکیہ میں نوجوانوں کے بعد سب سے زیادہ بااثر خواتین ہیں۔ یہ خواتین کس کو ووٹ دیں گی؟۔

اس حوالے سے ترکیہ میں خواتین کی انجمنیں ایردوان کے ’’ استنبول معاہدے‘‘ سے پیچھے ہٹنے کی بنا پر ان کے حریف کمال اوگلو کو ووٹ دینے کے لیے اپوزیشن کو متحرک کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رہنما کمال اوگلو چھ جماعتوں کے اپوزیشن اتحاد کی بھی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ اتحاد حکمران پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی مخالفت کر رہا ہے۔

ترکیہ کے مشہور "کونڈا" اور "میٹروپول" سمیت متعدد تحقیقی اداروں کی جانب سے رواں ہفتے شائع کیے گئے تازہ ترین رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 60 لاکھ نوجوان ووٹرز کے بعد خواتین ان انتخابات میں سب سے زیادہ بااثر گروپ ہیں۔

فیصلہ کن کردار

خواتین کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا تھا، پہلا ترک صدر ایردوان کے خلاف ہے اور یہ گروپ کمال اوگلو کو ووٹ دے گا۔ خواتین کا دوسرا گروپ ایردوان کا حامی ہے۔

خواتین کے درمیان اس تقسیم کی وجہ وہ خواتین ہیں جو 2021 کے موسم گرما میں ہونے والے ’’استنبول معاہدے‘‘ سے ملک کی دستبرداری کی حمایت کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار بنگوئی بشیر کے مطابق ’’استنبول معاہدے‘‘ سے دستبرداری کی وجہ سے ایردوان کی خواتین میں مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ اس اقدام سے خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والوں نے ایردوان کی مخالفت کرنا شروع کردی ہے۔

ترک اکیڈمی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ کل اتوار کو ملک میں صدارتی انتخاب کے فاتح کا تعین کرنے میں خواتین فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔

خاندانی قانون

بنگوئی بشیر نے مزید کہا کہ خاندان سے متعلق قانون نمبر 6284 اور خواتین کے خلاف تشدد کا مقابلہ انتخابات کی تاریخ کے قریب آنے کے ساتھ ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ خاص طور پر چونکہ ملک میں خواتین کے قتل اور ان کے خلاف تشدد کا سلسلہ جاری ہے تو اس قانون پر تنازع بڑھ رہا ہے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر خواتین اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں خواتین کی حقیقت سے آگاہ سیکولر خواتین حکومت کی جانب سے خواتین کے تحفظ میں ناکامی کی وجہ سے صدر ایردوان کو شکست دینا چاہتی ہیں۔ خواتین کے حقوق سے متعلق قوانین کے اجرا کا مطلب صرف ان کے خلاف تشدد کو روکنا نہیں ہے بلکہ ان کے وجود کی حفاظت اور سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی زندگی میں ان کی شرکت کو یقینی بنانا بھی ہے۔

6 ملین نئے ووٹرز

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ان انتخابات میں ایک موثر عنصر ہیں اور وہ پہلی بار انتخابات میں حصہ لینے والے نوجوانوں کے ساتھ ملک میں بنیادی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوں گی۔ اس الیکشن میں ترکیہ میں 6 ملین نئے ووٹرز بھی حصہ لیں گے۔

خاص طور پر چونکہ موجودہ حکومت کا خواتین کے حوالے سے نظریہ یہ ہے کہ خواتین کو اپنے بچوں اور شوہروں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں کے اندر رہنا چاہیے۔ خواتین کا ایک بڑا گروپ ایردوان کے حریف کو ووٹ دے کر ایردوان سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔

خواتین مردوں سے زیادہ

واضح رہے 14 مئی کو ترکیہ میں ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 6 لاکھ 97 ہزار 843 ہے۔ ان ووٹرز میں سے نصف سے زیادہ خواتین ووٹرز ہیں۔ خواتین ووٹرز کی تعداد 3 کروڑ 7 لاکھ 10 ہزار 790 ہے۔

ترکیہ میں خواتین کے سب سے بڑے گروپ "سٹاپ دی کلنگ آف وومن" پلیٹ فارم نے ایک بیان میں تمام خواتین کو ملک کے صدارتی انتخابات میں کمال اوگلو کو ووٹ دینے کا کہا ہے۔

استنبول کنونشن

حزب اختلاف کے صدارتی امیدوار نے جولائی 2021 میں ایردوان کے اس سے دستبردار ہونے کے بعد "استنبول معاہدے" پر واپس آنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ انتخابی وعدہ زیادہ تر خواتین کو ان کے حق میں ووٹ ڈالنے کی طرف لے آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں