ترکیہ انتخابات:ابتدائی نتائج،صدرایردوآن کوحزب اختلاف کے امیدوارکلیچ داراوغلوپربرتری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ترکیہ میں صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کاعمل جاری ہے۔ابتدائی نتائج کے مطابق صدررجب طیب ایردوآن کواپنے حریف امیدوار پر معمولی برتری حاصل ہے لیکن کمال کلیچ داراوغلو کے حامیوں نے بھی ان کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

نجی خبر رساں ادارے 'انکا' کے مطابق اتوار کورات گئے تک83.31 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی اور صدر ایردوآن نے 48.55 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کےمدمقابل کلیچ داراوغلو کو 45.69 فی صد ووٹ ملے ہیں۔اگر ووٹوں کی یہی شرح برقرار رہتی ہے اور کوئی بھی امیدوار پچاس فی صد ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتاتو فاتح کا فیصلہ کرنے کے لیے دوسرے مرحلے کی پولنگ ناگزیرہوگی۔

سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق 80.48 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد صدرایردوآن کو 50.43 فی صد کے ساتھ برتری حاصل ہے جبکہ کلیچ داراوغلو نے 43.77 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ترک ووٹروں نے اتوارکے روز پارلیمانی انتخابات کے لیے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔60۰36 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اورصدر ایردوآن کی انصاف اور ترقی پارٹی (آق) نے 37.91 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ کلیچ داراوغلو کی ریپبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) نے 28.89 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔

انتخابات میں 88.23 فی صد رائے دہندگان نے حصہ لیا ہے۔قبل ازیں ترکیہ کے ہائی الیکشن بورڈ کے سربراہ نے انتخابی نتائج کی اشاعت پرعاید پابندی ختم کردی تھی اورکہا تھا کہ بورڈ کی جانب ابتدائی سرکاری نتائج کےاعلان تک انتظار کیا جائے۔

پولنگ سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں کلیچ داراوغلو کوبرتری حاصل تھی۔انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صدرایردوآن کی دو دہائیوں پر محیط سیاسی وراثت کا بیشتر حصہ ختم کردیں گے۔

انتخابی نتائج صدر رجب طیب ایردوآن کو اقتدار سے ہٹانے اور ان کی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ راستے کو روکنے کا ذریعہ ہوں گے یاان کی حکمرانی کے تیسرے عشرے کا آغازثابت ہوں گے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ترک صدرکے سب سے بڑے حریف کمال کلیچ داراوغلوکو معمولی برتری حاصل ہے۔اوغلو چھےجماعتوں پر مشتمل اتحاد کے سربراہ ہیں اورجمعہ کو دوجائزوں میں انھیں 50 فی صد کی حد سے اوپر دکھایا گیاتھا۔اگران دونوں صدارتی امیدواروں میں سے کوئی بھی 50 فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرپاتا ہے تو 28 مئی کودوبارہ ووٹ ڈالے جائیں گے۔

پولنگ

ترکیہ میں صدارتی اورپارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ صبح شروع ہوئی تھی اور شام 5 بجے (مقامی وقت کے مطابق 1400 بجے) تک جاری رہی۔پہلے ترکیہ کے ایک قانون کے تحت پولنگ کے بعد رات 9 بجے تک کسی بھی نتیجے کی اطلاع دینے پر پابندی تھی لیکن بعد میں یہ پابندی ختم کردی گئی۔

ترکیہ میں حالیہ برسوں میں ایک درجن انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے 69 سالہ ایردوآن کا کہنا ہے کہ وہ جمہوریت کا احترام کرتے ہیں اورآمرہونے سے انکار کرتے ہیں۔وہ جدید ترکیہ کی گذشتہ ایک صدی کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ حکمران رہنے والے سیاسی رہ نما ہیں۔

ترکیہ میں یہ انتخابات جنوب مشرقی علاقوں میں تباہ کن زلزلے کے تین ماہ بعد ہورہے ہیں۔اس میں 50 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ متاثرہ صوبوں میں بہت سے لوگوں نے حکومت کے سست رو ردعمل پرغم وغصے کا اظہار کیا ہے لیکن اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ اس مسئلے نے لوگوں کے ووٹ ڈالنے کے طریقے کو تبدیل کر دیا ہے۔

صدر ایردوآن نے استنبول میں ووٹ ڈالا،وہاں موجود انتخابی عملہ سے مصافحہ کیا اور پولنگ اسٹیشن میں ایک ٹی وی رپورٹر سے بات کی۔انھوں نے کہا:’’ہم اپنے ملک، قوم اور ترکیہ کی جمہوریت کے بہتر مستقبل کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں‘‘۔

ان کے حریف 74 سالہ کلیچ داراوغلو نے انقرہ میں ووٹ ڈالا۔ وہ جب پولنگ اسٹیشن پرپہنچے تو وہاں موجود ہجوم نے خیرمقدمی تالیاں بجائیں۔انھوں نے اس موقع پرمیڈیا کے نمایندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’میں اپنے ان تمام شہریوں کو اپنی مخلصانہ محبت اوراحترام پیش کرتا ہوں جو بیلٹ باکس میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ہم سب کو جمہوریت یادرکھنا چاہیے‘‘۔

پارلیمانی انتخابات میں ایردوآن کی اسلام پسند جماعت آق کے زیرقیادت قوم پرست ایم ایچ پی اور دیگر پرمشتمل عوامی اتحاد اورترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قائم کردہ سیکولرری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) سمیت چھے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل کلیچ داراوغلو کے زیرقیادت قومی اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

ترکیہ میں انتخابات میں ووٹنگ کے عمل کی نگرانی یورپ میں قائم سلامتی اور تعاون تنظیم کے ایک مشن نے بھی کی ہے۔اس نے کہا ہے کہ وہ پولنگ کے بارے میں اپنے جائزے اورحاصلات پرسوموار کوابتدائی بیان جاری کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں