مصری ثالثی میں غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ ہفتہ کی رات نافذ العمل ہو گیا۔ فلسطینی اور مصری ذرائع نے قاہرہ کی سرپرستی میں جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے قریبی ایک فلسطینی ذریعہ نے فرانس پریس کو تصدیق کی ہے کہ مصر کو فلسطینی اور اسرائیلی فریقوں سے جنگ بندی کی منظوری مل گئی ہے بشرطیکہ یہ شام دس بجے سے نافذ العمل ہو جائے۔ تحریک اسلامی جہاد کے ایک ذریعہ نے شناخت ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیش کردہ فارمولہ معاہدے میں ترامیم مثبت ہیں اور مزاحمت کی شرائط کو پورا کرتی ہیں۔ عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں تحریک اسلامی جہاد کے ایک ذریعے نے ہفتہ کو بتایا کہ تحریک نے جنگ بندی کے لیے مصری فارمولے پر اتفاق کرلیا ہے۔

نیا مصری فارمولا

ذریعہ نے مزید بتایا کہ ہم مصر کے نئے پیپر کو مثبت سمجھتے ہیں ۔ مصری پیپر میں اسرائیل کو گھروں پر بمباری اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے رکنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اسرائیل نے تحریک اسلامی جہاد کے رہنماؤں کے قتل کو روکنے کا عہد نہیں کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مصر نے کہا ہے کہ وہ قتل کی پالیسی کو طویل عرصے تک منجمد کر دے گا۔

جواب کا انتظار

انہوں نے اسرائیلی فریق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں اور ہم میدان کو دیکھ رہے ہیں۔ اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے دو فلسطینی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل اور غزہ میں فلسطینی دھڑوں نے مصر کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے اور جی ایم ٹی وقت کے مطابق 1900 بجے شروع ہوگی۔

تاہم "العربیہ" ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ تل ابیب نے قاہرہ کو آگاہ کردیا ہے کہ جنگ بندی کا انحصار غزہ سے راکٹ فائر کیے جانے سے مکمل طور پر اجتناب پر ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ سے قبل اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا اور اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے مقامات پر بمباری کا اعلان کیا۔

راکٹوں کا تبادلہ

اس سے قبل غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان راکٹ فائر اور گولہ باری کا تبادلہ نسبتاً پرسکون رات کے بعد ہفتے کی صبح دوبارہ شروع ہوگیا تھا۔ ’’العربیہ ‘‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے شہروں میں متعدد اہداف پر اسرائیلی حملے جاری رہے۔

مرنے والوں کی تعداد

منگل 9 مئی کو کو تحریک اسلامی جہاد کے خلاف اسرائیلی آپریشن کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان گولہ باری کے تبادلے میں 33 فلسطینی ہلاک ہو چکے اور 150 کے قریب فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباری میں ’’ اسلامی جہاد‘‘ کے چھ رہنما بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں