ترکیہ میں کوئی بھی صدرمنتخب ہو،دوطرفہ تعلقات جاری رہنے اورگہرے ہونے چاہییں: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

کریملن نے اس توقع کااظہارکیا ہے کہ روس اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعاون جاری رہے گا، گہرا اور وسیع ہوگا،اس بات سے قطع نظرکہ صدارتی انتخابات میں کون فاتح ٹھہرتا ہے۔

ترکیہ میں اتوار کو منعقدہ صدارتی انتخابات میں صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے حریف حزب اختلاف کے امیدوار کمال کلیچ دار اوغلو کے درمیان سخت مقابلہ ہوا ہے اور دونوں میں سے کوئی بھی جیت کے لیے درکار 50 فی صد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہاہے۔

سرکاری ٹی آر ٹی ورلڈ اوراناطولو ایجنسی نے پیر کے روز بتایا کہ 99.87 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اور صدرایردوآن نے 49.5 فی صد کے ساتھ برتری حاصل کرلی جبکہ حزب اختلاف کے امیدوارکلیچ داراوغلو 44.89 فی صد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر ہیں۔ایردوآن اور کلیچ داراوغلو اب 28 مئی کو دوسرے مرحلے کے صدارتی انتخابات میں مدمقابل ہوں گے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ’’'یقینا ہم ان دنوں ترکیہ سے آنے والی خبروں کو بڑی دلچسپی اور توجہ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ہم ترک عوام کے انتخاب کااحترام کرتے ہیں اور ان کا احترام کریں گے۔ لیکن کسی بھی صورت میں، ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا تعاون جاری رہے گا، گہرا اور وسیع ہوگا‘‘۔

پیسکوف نے ماسکو اورانقرہ کے درمیان "باہمی مفاد پرمبنی تعاون" کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی جیسے توانائی، سیاحت، تجارت، زراعت اور نقل وحمل وغیرہ۔انھوں نے کہا:’’ترکیہ ایک ترقی یافتہ جمہوریت، ایک مضبوط خودمختارملک ہے۔ وہ فطری طور پر شفاف اور جمہوری انتخابات کے انعقاد اور کسی بھی غیر قانونی اقدامات کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے‘‘۔

ایردوآن اور پوتین؛دیرینہ اتحادی

طیب ایردوآن روس کے صدرولادی میر پوتین کے دیرینہ اتحادی ہیں اورانھوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون، فوجی شراکت داری اور علاقائی صف بندی کے ذریعے ترکیہ اور روس کے درمیان قریبی تعلقات کومضبوط بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ دوسری طرف ، روس کو ترکیہ کی منڈیوں تک رسائی اور جغرافیائی سیاسی اثرورسوخ میں اضافے سے فائدہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب امریکااورمعاہدہ شمالی بحراوقیانوس کی تنظیم نیٹونے اس فوجی اتحاد کی اقدار اوراس کی اجتماعی سلامتی کے ساتھ انقرہ کی وابستگی پرتشویش کا اظہار کیا ہے اور ترکیہ اور روس کے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات پر خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ ترکیہ کے مغربی اتحادیوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انقرہ اپنے علاقائی عزائم پر مغربی مفادات کو ترجیح دے سکتا ہے؟

بالخصوص روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری نے ترکیہ کے اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ کردیا ہے، کیونکہ یہ نظام اتحاد کے بنیادی دفاعی ڈھانچے سے مطابقت نہیں رکھتا اور ممکنہ سکیورٹی خطرات پیدا کرتا ہے۔امریکانے تو ایس 400 میزائل دفاعی نظام کے معاہدے کے جواب میں ترکیہ پر پابندیاں عاید کردی تھیں جس سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔

مغربی ممالک دونوں رہنماؤں کے آمرانہ طرزعمل، اقتدار کی مرکزیت، اختیارات کے ارتکاز اور جمہوری اقدار کے خاتمے کی طرف رجحانات پرتنقید کرتے رہتے ہیں۔ترکیہ میں آئینی اصلاحات اور حزب اختلاف کی آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ذریعے ایردوآن کے اقتدار کے ارتکاز کا موازنہ روس میں صدر پوتین کی طاقتور حکومت سے کیا جاتاہے۔ ان کے طرزِحکومت نے جمہوری چیک اینڈ بیلنس کے خاتمے اور انسانی حقوق، پریس کی آزادی اور قانون کی حکمرانی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات کو جنم دیا۔

دریں اثناء، ترکیہ میں حزبِ اختلاف کے امیدوار کلیچ داراوغلو نے خود کو صدرایردوآن کے مضبوط حریف کے طورپر پیش کیاہے اور کہا ہے کہ وہ ترکیہ کو جمہوری حکمرانی اور اقدار کی طرف واپس لے جائیں گے۔وہ طیب ایردوآن کی حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں، خاص طورپرانسانی حقوق، اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے اور معاشی پالیسیوں جیسے موضوعات پرانھیں کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

کلیچ داراوغلو منتخب ہونے کی صورت میں صدر ایردوآن کی اہم پالیسیوں کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اوراس کا مقصداندرون ملک زیادہ اعتدال پسند حکومت کاقیام اور زیادہ متوازن خارجہ پالیسی پر عمل کرنا ہے جس کا مقصد نیٹو،امریکااور یورپی یونین کے ساتھ خراب تعلقات کو بحال کرنا ہوگا۔

اگرکلیچ داراوغلو جیت جاتے ہیں تو مغرب کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات دوستانہ ہوجائیں گے، کیونکہ ان کا سیکولر نظریہ مغربی اتحادیوں کے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی صدارت میں ترکیہ اور روس کے تعلقات کیاشکل اختیار کریں گے؟کیونکہ انھوں نے ماسکو پر ترک انتخابات میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا جبکہ کریملن نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

انھوں نے خبررساں ادارے رائٹرزکو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا’’ہم سمجھتے ہیں کہ کسی دوسرے ملک کی جانب سے کسی سیاسی جماعت کے حق میں ترکیہ کے انتخابی عمل میں مداخلت ناقابل قبول ہے۔ میں چاہتا تھا کہ پوری دنیا اس سے آگاہ ہو‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہم اپنے دوستانہ تعلقات کو توڑنا نہیں چاہتے لیکن ہم اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔دمتری پیسکوف نے گذشتہ ہفتے اس دعوے کی تردید کی تھی اوراس الزام کے جواب میں کہا تھا کہ ’’ہم ترکیہ میں حزب اختلاف کے اس بیان سے انتہائی مایوس ہوئے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں