سعودی ویژن 2030

سعودی عرب میں جدّت طرازی کے لیے سازگار ریگولیٹری ایکوسسٹم ہے: کے پی ایم جی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جوں جوں ڈیجیٹل دورآگے بڑھ رہا ہے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزتیزی سے معاشروں اور معیشتوں کے کام کرنے کے طریقے کو تبدیل کررہی ہیں۔کاروبار اور معیشت تیزی سے جدّت طرازی پر منحصر ہو گئے ہیں اور حکومتوں کو جدّت طرازی کی حوصلہ افزائی کے ساتھ شہریوں کے تحفظ اور مسابقت کو متوازن کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومتیں ان ٹیکنالوجیز کی اہمیت وافادیت سے آگاہ ہیں،لہٰذاانھوں نے اپنے شہریوں کی ان ٹیکنالوجیوں تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات بروئے کارلاناشروع کردیے ہیں۔کثیر قومی پیشہ ور خدمات گروپ کے پی ایم جی (کلائینولڈ پیٹ ماروِک گوریڈیلر) اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ حکومتیں کس طرح جدّت طرازی کو فروغ دے سکتی ہیں اور وہ اس کو یقینی بنانے کے لیے موثر ریگولیٹری فریم ورک کیسے تشکیل دے سکتی ہیں۔

کے پی ایم جی نے سعودی عرب میں جدّت طرازی کے لیے مؤثریگولیٹری فریم ورک کی تیاری اوراس کے بہترین طریقوں کے ادراک کے لیےدیگر کلیدی مارکیٹوں کے ریگولیٹری اقدامات کا جائزہ لیا ہے اور اس کو اپنی دورپورٹس میں پیش کیا ہے۔

جدّت طرازحکومتیں

سعودی عرب اپنے آپریشنز میں ڈیجیٹل تبدیلی لانے کے لیے جدّت طرازی کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے۔اس کا مقصد جدّت طرازی کی ثقافت تعمیرکرنا ہے۔

کے پی ایم جی نے اپنی پہلی رپورٹ ’’جدّت طراز حکومتیں:بہترعوامی خدمات مہیا کرنے کے لیے جدّت طرازی کو فروغ دینا‘‘کے عنوان سے پیش کی ہے۔اس میں کہا ہے کہ مملکت نے اپنی جدّت طرازی کی کوششوں کا ایک حصہ داخلی نظم ونسق پروقف کیا ہے اور ایک اہم اقدام کے طور پر ڈیجیٹل حکومت پر توجہ مرکوزکی ہے۔اس میں ویژن 2030 اور قومی تبدیلی پروگرام (این ٹی پی) کے تحت قابل ذکر جدّت طرازی پروگرام اورشاہ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کے اے یو ایس ٹی) اورشاہ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی (کے اے سی ایس ٹی) جیسے جدّت طرازی کے مراکز کا قیام شامل ہے۔

اس کے علاوہ، ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی (ڈی جی اے) ڈیجیٹل سرکاری خدمات مہیا کرنے کے لیے سرکاری اداروں کو ان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں مدد کرتی ہے. سعودی عرب اقوام متحدہ کے ای گورنمنٹ ڈیولپمنٹ انڈیکس (ای جی ڈی آئی) میں 31 ویں نمبرپرآگیا ہے جبکہ 2018 میں وہ 52 ویں نمبر پر تھا۔

سعودی عرب میں کے پی ایم جی میں آئی سی ٹی سیکٹرکے سربراہ ڈاکٹر سمیرعبداللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’سعودی عرب میں فنڈنگ اور سیاسی عزم کے لحاظ سے جدّت طرازی کا کلچرموجود ہے۔ حکومت کی جدّت طرازی کی سرگرمیاں اکثرمعیار زندگی کو بہتربنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے وضع کی جاتی ہیں۔ جدّت طرازی پر حکومتی اخراجات کے اثرات کی پیمائش کیسے کی جائے، یہ ہمارے مطالعہ کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے‘‘۔

کے پی ایم جی کا کہنا ہے کہ حکومتیں جدّت طرازی کے ماحولیاتی نظام میں بہت سے کردارادا کرسکتی ہیں ، بشمول جدّت طرازی کی پالیسی سازی ، صلاحیت میں اضافہ کرنا، سرمایہ مہیا کرنا، پروموٹر اور جدّت طرازکردار وغیرہ۔ کامیابی کی شرائط میں ناکامی کا کلچر، جدّت طرازی کی صلاحیتوں کی تعمیر اور جدّت طرازی کے ماحولیاتی نظام کو فعال بنانا وغیرہ سب اشاعت میں اہم عوامل کے طور پر ذکرکیا گیا ہے۔

حکومتوں کوجدّت طرازی کے لیے سازگارماحول پیدا کرنا چاہیے۔ اس میں تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کی معاون پالیسیوں کی تشکیل اور خود حکومت کے اندر جدّت طرازی کا کلچر پیدا کرنا شامل ہے۔ صرف ان اقدامات سے ہی سرکاری ادارے معاشرے میں موثرجدّت طرازی اور مثبت اثرات مرتب کر سکیں گے۔

عالمی سطح پر، حکومتیں ایک غیر مستحکم، پیچیدہ اور مبہم دنیا میں متعلقہ اور مؤثر رہنے کے لیے جدّت طرازی کرتی ہیں۔حکومت کی جدّت طرازی آبادی کے لیے قدر پیدا کرنے کے طریقوں میں سرکاری خدمات تک رسائی اورمعیار زندگی کو بہتر بنانا ، وسائل تک رسائی ، شہریوں کی فلاح و بہبود کا تحفظ ، انٹرپری نیورشپ کو فروغ دینا، نئی ٹیکنالوجیوں کو اپنانا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔مختلف ممالک اپنی برادریوں کے تحفظات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں میں وسیع پیمانے پرمسائل کو حل کرنے کے لیے مختلف قسم کے جدید طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔

جدّت طرازی کو ریگولیٹ کرنا

دوسری طرف ، قواعد و ضوابط جدّت طرازی پر مختلف قسم کے اثرات مرتب کرسکتے ہیں اوریہ سازگار اور محدود دونوں ہوسکتے ہیں۔ وہ مصنوعات کی منڈیوں میں کھلے پن اور مسابقت کی سطح کو یقینی بناسکتے ہیں، معاشرے کی ضروریات پر مبنی تحقیق کے شعبوں پرتوجہ مرکوزکرسکتے ہیں اور اختراعی عمل میں تمام معاشی کرداروں کے لیے منصفانہ "زمینی قواعد" کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

اس سیریز کا دوسرا حصہ ’’جدّت طرازی کے لیے ریگولیٹنگ: جدّت طرازی کے لیے سازگار ریگولیٹری ماحول کی تعمیر"، کے عنوان سے مرتب کیا گیا ہے۔اس میں کے پی ایم جی نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے موضوعات، معاشرے کے لیے ان کی اہمیت اور قواعد و ضوابط کے کلیدی کردارکا جائزہ لیا ہے۔

سعودی عرب نے ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کی رہ نمائی اورغیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک ماحولیاتی نظام بنانے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا ہے۔اپنی ڈیجیٹل معیشت کو سہارا دینے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کے نفاذ کے علاوہ سعودی عرب انٹرپری نیورشپ اور نئے کاروباری منصوبوں کی سہولت کے لیے ریگولیشن کی بھی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

سمیر عبداللہ نے بتایا کہ ’’ابھرتی ہوئی ٹکنالوجیوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے نجی شعبے کو مختلف قسم کی ترغیبات دی جاتی ہیں۔اس کے بعض فوائد یہ ہیں؛مالی ترغیبات، آٹومیشن میں اضافہ، ہائبرڈ اور ریموٹ کام کے لیے لچک میں اضافہ،روزگار کی بلند شرح، بہتر انسانی وسائل کے انتظام کے طریقوں، مسابقتی فائدہ، درست فیصلہ سازی، اور مستقبل کی مارکیٹوں پر قبضہ وغیرہ۔ مزید برآں، سرکاری شعبے کی جانب سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اثرات سمیت مختلف محاذوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس سے مستقبل میں خوش حالی اور بہترنظم ونسق میں مدد ملے گی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ مزدوروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے سے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کو ممکنہ طور پر مزید مہارتوں اور صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی‘‘۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہریوں کی سرکاری ایجنسیوں تک زیادہ رسائی ، انحصاراور جواب دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کاربن فٹ پرنٹس کوکم کرنے میں مدد دے گی اور کاربن فٹ پرنٹس کوکم کرکے ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ڈیجیٹل تبدیلی اورجدّت طرازی کی رفتار ہمیشہ اس کے رہ نما قواعد و ضوابط سے تیز ہوتی ہے۔ بدلتے ہوئے ماحول کے ساتھ رہنا اور فرسودہ قواعد و ضوابط کی وجہ سے جدّت طرازی کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے بچنا ایک مسلسل عالمی چیلنج ہے‘‘۔

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی مارکیٹ کی تیز رفتار ترقی مقامی اور عالمی دونوں سطحوں پر پالیسیوں اور معیارات کو مشترکہ ڈیزائن کرنے کے لیے زیادہ ذمہ دار اورشراکت دارحکمتِ عملی کا مطالبہ کرتی ہے۔ عالمی سطح پر، کاروباری اداروں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ریگولیشن کے لیے زیادہ مربوط نقطہ نظرپیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔جدّت طرازی کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ صارفین کی حفاظت کا تحفظ بھی کیا جاناچاہیے۔ حکومتوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ قواعدوضوابط ترقی کے عمل کو روک نہ سکیں۔ نیزکاروباری اداروں کوان ٹیکنالوجیز کے اخلاقی استعمال کے لیے جواب دہ ہونے کی ضرورت ہے جو وہ تخلیق کررہے ہیں۔

سمیرعبداللہ کا کہنا تھا:’’ڈیٹا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ریگولیشن کے درپیش پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیرفریقوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے تاکہ سرحدوں پر ڈیٹا کے آزادانہ بہاؤ کو یقینی بنایا جاسکے، صارفین کا تحفظ کیا جاسکے اور منصفانہ مسابقت کوفروغ دیا جاسکے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں