انڈیا میں کھانسی کے شربت کی ایکسپورٹ سے پہلے سرکاری جانچ کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انڈیا کے ڈرگ ریگولیٹر نے تجویز دی ہے کہ کھانسی کے سیرپ کو برآمد کرنے سے پہلے ان کی سرکاری لیبارٹریوں میں جانچ کی جائے۔ میڈیا آؤٹ لیٹ نیوز 18 نے منگل کو رپورٹ کیا۔

یہ فیصلہ گذشتہ برس گیمبیا اور ازبکستان میں بھارتی ساختہ سیرپ پینے سے درجنوں بچوں کی ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے۔

نیوز 18 کی ویب سائٹ نے وزارت کے ایک نامعلوم عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ہندوستان کی وزارت صحت کو اس ماہ سینٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن ( سی ڈی ایس سی او) سے تجویز موصول ہوئی ہے اور وہ اس پر غور کر رہی ہے۔

تاہم ، وزارت صحت نے اس بارے میں تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ذرائع کے مطابق سیرپ کو وفاقی حکومت یا ریاستوں کے زیر انتظام مختلف لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق، سی ڈی ایس سی او نے برآمد کنندگان کے لیے ایک منظور شدہ لیبارٹری سے برآمد کیے جانے والے بیچوں کا "تجزیہ کا سرٹیفکیٹ" پیش کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

ہندوستان کی 41 بلین ڈالر کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو پچھلے سال اس وقت بڑا جھٹکا لگا تھا جب نئی دہلی کے قریب واقع دو کمپنیوں کے کھانسی کے شربت گیمبیا میں کم از کم 70 اور ازبکستان میں 19 بچوں کی موت کا باعث بنے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پچھلے سال اس واقعے کے بعد کہا تھا کہ ہندوستانی مینوفیکچرر میڈن فارماسیوٹیکلز لمیٹڈ کے شربت، جو گیمبیا کو برآمد کیے گئے، میں مہلک زہریلے ایتھیلین گلائکول (ای جی) اور ڈائیتھیلین گلائکول (ڈی ای جی) شامل ہیں ، جو کار کے بریک فلوئڈ میں استعمال ہوتے ہیں۔

ازبکستان نے دسمبر میں کہا تھا کہ وہاں 19 بچے ایک اور ہندوستانی کمپنی ماریون بائیوٹیک کے بنائے گئے کھانسی کا شربت پینے کے بعد ہلاک ہوئے جو مہلک ای جی یا ڈی ای جی سے آلودہ تھے۔

دونوں بھارتی کمپنیوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ان اجزاء کو بدعنوان عناصر پروپیلین گلائکول کے سستے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جو کہ شربت کی تیاری کے لیے کلیدی عنصر ہے۔

ہندوستان کے ڈرگ ریگولیٹر نے دسمبر میں ڈبلیو ایچ او کو بتایا تھا کہ میڈن اور ماریون دونوں کے ذریعہ استعمال ہونے والا پروپیلین گلائکول دہلی میں دو الگ الگ سپلائرز سے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں