دبئی:امارات پوسٹ کے نئے اسکینڈل کے بعدمکینوں کوذاتی معلومات شیئرنہ کرنے کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں نئے گھوٹالوں کی اطلاعات کے بعددبئی کے مکینوں کوخبردارکیاگیا ہے کہ وہ کمپنیوں یا سرکاری اداروں کا روپ دھارنے والے دھوکابازوں سے محتاط رہیں۔

متعدد مکینوں نے یواے ای کے محکمہ امارات پوسٹ سے ٹیکسٹ پیغامات موصول ہونے کی اطلاع دی ہے اور وصول کنندگان کو بیرونی لنک پر کلک کرنے کاکہا گیاہے۔

اس کے بعد یہ پیغام نمودارہوتا ہے:’’پتے کی غلط معلومات کی وجہ سےآپ کے پیکج کی ترسیل نہیں کی گئی تھی اور پیکج کو گودام میں واپس کردیا گیا تھا۔ براہ کرم اپنے شپنگ ایڈریس کواپ ڈیٹ کریں اور اپنی ترسیل کو ری شیڈول کریں‘‘۔

یہ عام گردش کرنے والا پیغام جی میل اکاؤنٹ سے بھیجاجاتا ہے اورپھر یہ وصول کنندہ کوغیرسرکاری ویب سائٹ پرری ڈائریکٹ کرتا ہے۔

اس اسکینڈل کا پتا چلنے کے بعد امارات پوسٹ نے عوام کودھوکابازوں سے محتاط رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ایک بیان میں اس نے کہا:’’امارات پوسٹ متحدہ عرب امارات کے اندراورباہر بڑی کوریئر اور ای کامرس کمپنیوں کے صارفین کو نشانہ بنانے والے گھوٹالوں اوردھوکادہی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے آگاہ ہے۔کمپنی دھوکا دہی پرمبنی آن لائن اسکیموں کا فعال طور پرمقابلہ کرکے اپنے صارفین کااعتماد برقرار رکھنے کے لیے چوکنا ہے‘‘۔

امارات پوسٹ نے اپنے صارفین کومشورہ دیا ہے کہ وہ اس کی کالز، ای میلز،ایس ایم ایس اور وٹس ایپ پیغامات کا جواب دیتے وقت انتہائی احتیاط برتیں۔

اس نے واضح کیا ہے کہ امارات پوسٹ سے ایس ایم ایس پیغامات صرف رجسٹرڈ اکاؤنٹس سے ہوں گے۔ امارات پوسٹ، ای پی جی سی اور امارات پی ایس ٹی اور ادائی کے لیے کسی بھی ذاتی نمبر یا ای میل کا استعمال نہیں کریں گے۔امارات پوسٹ اپنی ویب سائٹ emiratespost.ae اور امارات پوسٹ ایپ کے ذریعے ایک محفوظ ادائی پورٹل کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ وہ اس کی شپمنٹ اور خوردہ مصنوعات کے لیے آن لائن ادائی کا واحد ذریعہ ہیں۔تمام ویب ادائی امارات پوسٹ کی ویب سائٹ اور موبائل ایپ سے کی جاسکتی ہیں نہ کہ کسی بھی لنک کے ذریعے۔

ترجمان نے کہا کہ امارات پوسٹ ان سرگرمیوں کے بارے میں صارفین کی آراء کودیکھ رہا ہے اوران کے سوالوں کا جواب دے رہا ہے اوراس ضمن میں ٹیلی کمیونی کیشن اور ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ان جعلی اکاؤنٹس کو شروع کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔ امارات پوسٹ نے بیرون ملک ان فراڈیوں کا سراغ لگانے اورپکڑنے کے لیے بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے ساتھ بھی شراکت داری کی ہے۔

امارات پوسٹ اپنے عوامی اور ڈیجیٹل میڈیا چینلز کا استعمال صارفین کو اس طرح کے فراڈ کی شناخت اور اس سے بچنے اورآگاہ کرنے کے لیے کر رہا ہے۔اس نے اپنے صارفین سے کہا ہے کہ خط و کتابت کی صداقت کی وضاحت اورتصدیق کے لیے امارات پوسٹ کی کسٹمرسروس ٹیم سے 99999 6005یا ای میل [email protected] پر رابطہ کریں۔ صارفین دھوکا دہی کی ان کوششوں کی اطلاع مخصوص ویب پیج کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں: www.emiratespost.ae/scam-prevention۔

گذشتہ ماہ دبئی پولیس نے عوام کو خبردارکیا تھا کہ وہ مالیاتی معلومات حاصل کرنے کے مقصد سے فون گھوٹالوں میں حکومت یابینکوں کا روپ دھارنے والے دھوکےبازوں سے محتاط رہیں۔پولیس نے واضح کیا تھاکہ کوئی بھی حکومت یا بینکنگ ایجنسی صارفین کو سی سی وی (کارڈ سکیورٹی کوڈ) نمبر اور او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) سمیت خفیہ بینک ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے نہیں کہے گی۔

یہ مشاورت اور رہ نمائی ایک آگاہی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد عوام کو دھوکادہی سے کال کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی گفت وشنید کے خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے جو بینک اور ذاتی تفصیل فراہم کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

جنرل ڈپارٹمنٹ برائے تفتیش جرائم کے ڈائریکٹر میجرجنرل جمال سلیم الجلاف نے کہاکہ آگاہی مہم عوام کوفون گھوٹالوں کے بارے میں آگاہ کرنے کی وسیع ترکوشش کا حصہ ہے، جس میں دھوکاباز متاثرین کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کے مالی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سرکاری اداروں یا بینکوں کے ساتھ اپنی ذاتی معلومات کو اپ ڈیٹ کریں اوربالآخران کے اکاؤنٹس سے رقوم نکال کرانھیں خالی کردیتے ہیں۔

میجر جنرل الجلاف نے کہا کہ اگرکسی بھی شخص کو ایسی کال موصول ہوتی ہے جس میں بینک کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کا کہاجاتا ہے تو وہ اسے دھوکادہی سمجھے اور فون کرنے والے کے ساتھ مزید کوئی گفتگو نہ کرے۔

انھوں نے مشورہ دیا کہ ایسے واقعات کی اطلاع فوری طور پر قریبی اسمارٹ پولیس اسٹیشن (ایس پی ایس) یا دبئی پولیس کی ویب سائٹ اور اسمارٹ ایپ پر 'ای کرائم' اور 'پولیس آئی' سروسز کے ذریعے دی جائے۔اس مہم میں دبئی کی اہم سڑکوں، رہائشی محلوں، پولیس گشت اور 20 اسمارٹ پولیس اسٹیشنوں پر آگاہی کے پیغامات پوسٹ کیے گئے ہیں۔مہم کے بارے میں آگاہی کا مواد اے ٹی ایم مشینوں، دبئی ایئرپورٹ کی اسکرینوں، سوشل میڈیا اور کارپوریٹ ای میلزکے ذریعے بھی نمایاں کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں